ملکی معاشی شرح نمو 9سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے جب کہ مہنگائی4سال بعد اپنے ہدف سے زائد،،سٹیٹ بینک  نے حکومت کو انتباہ کردیا، تشویشناک انکشافات

  پیر‬‮ 28 اکتوبر‬‮ 2019  |  22:20

کراچی(این این آئی)معاشی سست روی میں مقررہ ٹیکس ہدف حاصل کرنا ایک چیلنج ہے، حکومت کو آمدن بڑھانے اور اخرجات کم کرنے کی ضرورت ہے،ملکی معاشی شرح نمو 9سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے جب کہ مہنگائی4سال بعد اپنے ہدف سے زائد رہی،ا سٹیٹ بینک نے معیشت کی رفتار 3 فیصد تک سست پڑ جانے کا خدشہ ظاہر کر دیا ہے۔اسٹیٹ بینک نے مالی سال 19-2018 کی سالانہ رپورٹ میں موجودہ مالی سال کا آؤٹ لک بتاتے ہوئے مہنگائی رواں مالی سال 12 فیصد تک پہنچ جانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معیشت


کی بحالی میں عوامی فلاح کے منصوبے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ بجٹ خسارہ 7 فیصد کے قریب محدود رہ سکتا ہے جبکہ مالی سال کے آخری چھ ماہ میں مہنگائی کا زور کم ہونا شروع ہو جائے گا۔رپورٹ کے مطابق رواں کھاتوں کے خسارے میں مزید کمی آنے کی امید ہے جبکہ ایکسپورٹ رواں مالی سال 26 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔مالی سال کا معاشی جائزہ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں اقتصادی ترقی کی شرح 9 سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے اور مہنگائی بھی 4 سال بعد اپنے ہدف سے زائد رہی، معاشی سست روی سے گھریلو اخراجات میں کٹوتی دیکھی گئی، دیہی اور شہری آمدنی میں کمی ہوئی۔اسٹیٹ بینک کی مالیاتی جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی سے درآمدی اشیا پر اثر پڑا، مالی سال 2019 کی آخری سہ ماہی میں غذائی اشیا کی قیمتوں میں بھاری اضافہ مہنگائی کا سبب بنا، مالی سال کے دوران شرح سود میں اضافہ ہوا بجلی اور گیس مہنگی ہوئی، پالیسی ریٹ میں لگاتار اضافہ سے نرخوں پر طلب کا دبا کم کرنے میں مدد دی لیکن پالیسی ریٹ میں مسلسل اضافہ کے باوجود مہنگائی میں اضافہ ہوا۔رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 19-2018 کے 6.2 فیصد ہدف کے مقابلے میں معاشی ترقی کی شرح نمو 3.3 فیصد رہی، زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں کی نمو کا ہدف بھی پورا نہ ہوسکا، زرعی شعبہ کی شرح نمو ایک فیصد سے بھی کم اعشاریہ 8 فیصد رہی، صنعتوں کی افزائش 7.6 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں 1.4 فیصد تک محدود رہی، خدمات کے شعبہ میں 4.7 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی، مہنگائی کی شرح 6 فیصد کے ہدف سے بڑھ کر 7 اعشاریہ 3 فیصد رہی۔مالی سال 19-2018 میں جاری کھاتوں کا خسارہ 4اعشاریہ 8 فیصد رہا، مالیاتی خسارہ 8 اعشاریہ 9 فیصد کے برابر رہا، مجموعی خسارہ قرضوں کا جی ڈی پی سے تناسب 84.8 فیصد کی سطح پر آگیا، وفاقی حکومت ٹیکس رعایتوں میں کمی اور ترقیاتی اخراجات کم کرنے کے باوجود ٹیکس محاصل کا ہدف پورا نہ کرسکی۔رپورٹ میں ریمارکس دیئے گئے ہیں کہ حکومت ٹیکس وصولی کے لیے گنے چنے شعبوں پر انحصار کررہی ہے اور نان ٹیکس محاصل پر انحصار حد سے زیادہ بڑھ چکا ہے، گزشتہ مالی سال اسٹیٹ بینک پر قرضوں کے انحصار سے سخت مانیٹری پالیسی کے اثرات بھی زائل ہوتے رہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال معاشی ترقی کی شرح نمو 3 سے 4 فیصد تک رہنے کا امکان ہے، رواں مالی سال مہنگائی کو 8.5 فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف ناقابل حصول رہے گا اور مہنگائی کی شرح 12 فیصد تک پہنچنے کا خدشہ ہے، مالیاتی خسارہ 6.5 فیصد سے 7.5 فیصد تک رہنے کا امکان ہے، جاری کھاتے کا خسارہ 2.5 فیصد سے 3.5 فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔رپورٹ میں یہ بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ رواں سال برآمدات کا 26.2 ارب ڈالر کا ہدف بھی مشکل ہے اور برآمدات 25.4 سے 25.9 ارب ڈالر تک رہنے کی توقع ہے۔


موضوعات: