بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

قرعہ اندازی سے کی گئیں تعیناتیاں ملکی قوانین کے برعکس ،معاملہ عدالت پہنچ گیا‎

datetime 12  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)پاکستان ریلوے میں قرعہ اندازی کے ذریعے 845 افراد کی تعیناتی کو لاہور ہائی کورٹ (ایل ایچ سی) میں چیلنج کردیا گیا۔درخواست گزار پاکستان ریلویز ایمپلائی (پریم) یونین نے دعویٰ کیا کہ نو تعینات شدہ زیادہ تر ملازمین کا تعلق راولپنڈی کے 2 حلقوں سے ہے، جس میں ایک حلقہ وزیر ریلوے شیخ رشید احمد جبکہ دوسرا ان کے بھتیجے شیخ رشید شفیق کا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان ریلویز ایمپلائی نے اپنے وکیل عمران شفیق کے ذریعے لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ میں درخواست جمع کروائی، جس میں مذکورہ تعیناتیوں کو منسوخ کرنے کی استدعا کی گئی۔درخواست کے مطابق ریلوے حکام نے اکتوبر 2018 میں بی ایس 1 سے بی ایس 5 تک کی 323 آسامیوں کے لیے اشتہار دیا تھا۔ جس کے صرف ایک ماہ بعد ایک اور اشتہار دیا گیا اور خالی آسامیوں کی تعداد 323 سے بڑھا کر 845 تک کردی گئی۔درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ان ملازمتوں کے لیے ہزاروں افراد نے اپلائی کیا‎  لیکن تعیناتیاں میرٹ کے بجائے قرعہ اندازی کے ذریعے کی گئیں جبکہ ’قرعہ اندازیوں کے ذریعے تعیناتیاں ملکی قوانین کے برعکس’ ہیں۔درخواست میں کہا گیا کہ ’جن امیدواروں نے مہارت اور تحریری امتحان میں سب سے زیادہ نمبر اور انٹرویو میں اپنے آپ کو ثابت کیا ہو وہ میرٹ کی بنیاد پر تعیناتی کے مستحق تھے۔تاہم ریلوے حکام نے اس معیار کو تبدیل کرتے ہوئے کامیاب امیدواروں کو ایک ہی پلڑے میں ڈال کر ان کی قسمت کا فیصلہ قرعہ اندازی کے ذریعے کیا۔ عدالت کو درخواست کے ذریعے بتایا گیا کہ نام نہاد امیدواروں کی نصف سے زائد تعداد موجودہ وزیر ریلوے کے حلقے سے تعلق رکھتی ہے اور درخواست کی کہ معزز عدالت اس پہلو کی جانچ کرے اور عدالتی نظرِ ثانی کے لیے ریکارڈ طلب کرے۔درخواست گزار کا مزید کہنا تھا کہ ’خفیہ قرعہ اندازی صرف ’منظور نظر‘کو منتخب کرنے کے لیے کی گئی اور یہ افسوس کی بات ہے کہ متعلقہ افسران نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور سیاسی اشرافیہ کے مفادات کے لیے ان کے ہاتھوں میں کھیلے۔لاہور ہائی کورٹ کو بتایا گیا کہ 58 آسامیاں اوپن میرٹ، 20 فیصد ریلوے ملازمین کی اولادوں کے لیے مختص کوٹے، 10 فیصد سابق ملازمین، 5 فیصد یتیم اور کسی جسمانی محرومی کا شکار جبکہ 2 فیصد آسامیاں معذور افراد کو دی جانی تھیں۔تاہم درخواست کے مطابق قرعہ اندازیوں سے کی گئیں بھرتیوں میں ان کوٹوں کو بھی مدِ نظر نہیں رکھا گیا۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…