اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

ہاسٹل کے عملے کو بلا کر دروازہ کھلوایا۔ بستر پر نمرتا بے ہوش پڑی تھی اور۔۔! ڈینٹل کالج کی طالبہ نمرتا کی لاش، 2 سہیلیوں کے بیانات سامنے آگئے،چونکا دینے والے انکشافات

datetime 23  ستمبر‬‮  2019 |

لاڑکانہ (این این آئی) ڈینٹل کالج کی طالبہ نمرتا کی سہیلیوں نے بتایا کہ نمرتا کماری کے گلے پر مضبوطی سے دوپٹہ بندھا ہوا تھا۔ گلے سے بندھا دوپٹہ قینچی سے کاٹنے کی کوشش کی تو کٹ نہ سکا پھر دوپٹے کو دانتوں سے کھولا۔تفصیلات کے مطابق:ڈینٹل کالج کی طالبہ کی لاش ملنے سے متعلق 2سہیلیوں کے بیانات سامنے آگئے، جس میں سہیلی نے بتایا کہ نمرتا نے فون اٹینڈ نہ کیا،کمرے تک پہنچے تودروازہ بندتھا۔

کھٹکھٹانے کے باوجودنمرتانے دروازہ نہ کھولا۔ کھڑکی سے دیکھاتونمرتا بستر پر گری ہوئی تھی۔ سہیلی نے بیان میں کہا کہ دوسری سہیلیوں اور ہاسٹل کے عملے کو بلا کر دروازہ کھلوایا۔ بستر پر نمرتا بے ہوش پڑی تھی۔ گلے میں دوپٹہ بندھاتھا۔ ہوش میں لانے کے لیے نمرتاکے چہرے پرپانی کے چھینٹے مارے۔بیان میں مزید بتایا گیا کہ نمرتا کماری کے گلے پر مضبوطی سیدوپٹہ بندھا ہوا تھا۔ گلے سے بندھا دوپٹہ قینچی سے کاٹنے کی کوشش کی تو کٹ نہ سکا۔ گلے پر بندھے دوپٹے کودانتوں سے کھولا۔ پھر نمرتا کو اسپتال لے گئے تو ڈاکٹروں نے موت کی تصدیق کی۔دریں اثناء لاڑکانہ پولیس نے نمرتا کماری قتل کیس کا مقدمہ درج کرانے کیلئے اہلخانہ کو خط لکھا ہے۔ ایس ایس پی لاڑکانہ نے نمرتا کماری قتل کیس مقدمے درج کرانے کیلئے نمرتا کے بھائی ڈاکٹروشال کو خط لکھا تھا، جس میں کہا تھا کہ ہائی پروفائل کیس کی تحقیقات کیلئے تعاون کی ضرورت ہے۔ واقعے کی فوری طور پر ایف آئی آر درج کرائی جائے۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد واقعے کے اصل حقائق سامنے لاسکیں گے۔ اہلخانہ سے درخواست ہے آئیں اور مقدمہ درج کرائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کالج کے طلبااورانتظامیہ کو نمرتااور زیرحراست 2افرادکی دوستی کا علم تھا۔ واقعے کی عدالتی تحقیقات کا تاحال آغاز نہیں ہوسکا۔ حکومت سندھ نے3 روز قبل عدالتی تحقیقات کے لیے حکم نامہ جاری کیا تھا۔علاوہ ازیں پاک سرزمین پارٹی سند ھ کونسل کے صدر شبیر قائم خانی نے کہا ہے کہ

ڈاکٹر نمرتا کیس میں انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں کیونکہ اس واقعہ سے عوام میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے، سندھ حکومت کی بے حسی کے باعث اس طرح کے واقعات کا بڑھنا افسوسناک ہے، سندھ کے تعلیمی اداروں میں حکومتی غفلت کے باعث طلبہ وطالبات ہراساں خوفزدہ ہیں سندھ میں اقلیتی برادریاں مل جل کررہ رہی ہیں ان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہماری ذمہ داری ہے ڈاکٹر نمرتا کیس میں تمام تر صلاحتیں استعمال کی جائیں اور انصاف کے تقاضے جلد ازجلد پورے کئے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…