اتوار‬‮ ، 30 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

عدالت کی اجازت کے باوجود والد سے نہیں ملنے دیا گیا، مجھے دیکھ کر ہسپتال میں کیا ہوتارہا؟آصفہ زرداری کے حیرت انگیز انکشافات

datetime 30  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) سابق صدر آصف علی زرداری کی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عدالت کی اجازت کے باوجود والد سے نہیں ملنے دیا گیا، مجھے دیکھ کر ہسپتال کے دروازے بند کردیئے گئے، کون سی اتھارٹی سلیکٹڈ حکومت کو پورا ہسپتال بند کرنے کی اجازت دیتی ہے، کیا ایسی ہوتی ہے مدینے کی ریاست؟۔سابق صدر آصف علی زرداری کی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری نے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ عدالت کی اجازت کیساتھ آج میں اپنے والد سے ملنا چاہتی تھی،

انتظامیہ نے مجھے دیکھ کر ہسپتال کے دروازے بند کردئیے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں تک کہ کسی مریض کو نہ اندر آنے دیا اور نہ باہر جانے دیا۔ انہوں نے کہا کہ کون سی اتھارٹی اس سلیکٹڈ حکومت کو پورا ہسپتال بند کرنے کی اجازت دیتی ہے؟۔انہوں نے کہا کہ کون سی اتھارٹی اس سلیکٹڈ حکومت کو مریضوں اور شہریوں کے ہسپتال داخلے پر پابندی لگاتی ہے؟۔انہوں نے کہا کہ میں کسی طرح ہسپتال کے اندر پہنچنے میں کامیاب ہوئی تو سیڑھیوں اور لفٹ پر پولیس والے کھڑے تھے۔انہوں نے کہا کہ میں لفٹ کے پاس کھڑی تھی کہ پولیس اہلکاروں نے مجھے والد کے پاس جانے سے روکنے کیلئے انسانی زنجیر بنالی۔انہوں نے کہا کہ مجھے روکا گیا، دھکا دیا گیا، پولیس کی جانب سے ناروا سلوک کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ کیا ایسی ہوتی ہے مدینے کی ریاست؟۔ سابق صدر آصف علی زر داری کی صاحبزادی آصفہ بھٹو زر داری نے کہا ہے کہ پمز ہسپتال میں والد سے ملاقات کے دور ان پولیس اہلکار متعدد بار آئے اور کہا دفع ہو جاؤ،آصف علی زر داری سے ان کے وکلاء اور خاندان کے افراد تک کو ملنے نہیں دیا جارہاہے۔ پمز ہسپتال کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سیکیورٹی اہل کاروں نے میرے ساتھ ناروا سلوک کیا، والد سے ملنے کے لئے روکا گیا۔ انہوں نے کہاکہ خواتین پولیس اہل کاروں نے بھی مجھے والد سے ملنے سے روکا، میرے والد نے مجھے دیکھا، وہ اپنی وہیل چیئر سے اٹھے اور میرا ہاتھ تھاما۔آصفہ بھٹو نے کہاکہ والد سے ملاقات کے دوران پولیس اہل کار متعدد بار آئے اور کہا کہ دفع ہوجاؤ،

جب پولیس اہل کاروں نے مجھے جانے کو کہا تو میں نے عدالتی احکامات دکھاتے ہوئے انکار کیا۔آصفہ بھٹو زر داری نے کہاکہ آصف زرداری سے ان کے وکلا اور خاندان کے افراد تک کو ملنے نہیں دیا جارہا۔پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل نیر بخاری نے کہاکہ انتظامیہ کی جانب سے آصفہ بھٹو زرداری کو والد سے ملاقات سے روکا گیا۔ انہوں نے کہاکہ ملاقات سے متعلق تحریری طور پر درخواست ہمارے پاس تھی، انتظامیہ درخواست وصول کرنے کے لئے تیار ہی نہیں تھی۔انہوں نے کہاکہ ہم ڈھونڈتے رہے کہ کوئی عدالتی احکامات کے مطابق موجود تحریری درخواست وصول کرے۔انہوں نے کہاکہ جیل انتظامیہ ہمیں نظر ہی نہیں آئی، پولیس، ہسپتال انتظامیہ اور اسسٹنٹ کمشنر سمیت کوئی درخواست وصول کرنے کو تیار نہیں تھا۔نیر بخاری نے کہاکہ ہم چاہتے تھے کہ ہماری درخواست پر عملدرآمد ہو۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(آخری حصہ)


جنرل فیض حمید اور عمران خان کا منصوبہ بہت کلیئر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)

عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…