اتوار‬‮ ، 22 فروری‬‮ 2026 

حکومت نے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا، اگر ایسا ہے تو بتایا جائے واپس لیا جائیگا، چیئر مین ایف بی آر کا چیلنج،بڑا اعلان کردیا

datetime 8  جولائی  2019 |

فیصل آباد (این این آئی)فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین شبر زیدی نے کہا ہے کہ حکومت نے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا، اگر کوئی ایسا نیا ٹیکس لگایا ہے تو بتایا جائے اسے واپس لیا جائیگا، ایف بی آر میں ایک سے پندرہ گر یڈ تک تبادلے ہوئے ہیں جو معمول کے مطابق ہیں، نیا ایف بی آر ضرور بنے گا،مہنگائی کے حل کے لیے صنعتی ترقی اور روزگار کو بڑھانا پڑیگا۔ پیر کو یہاں تقریب سے خطاب کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ

ایف بی آر میں ایک سے 15 گریڈ تک تبادلے ہوئے ہیں، جو معمول کے مطابق ہیں، نیا ایف بی آر ضرور بنے گا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی نئے لوگ یا عمارت ہوگی بلکہ وہیں لوگ ہوں گے جو اس میں موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ جو بھی فرد ہراساں کرنے یا کرپشن میں ملوث ہوگا اسے کسی بھی حال میں کسی بھی ادارے میں نہیں ہونا چاہیے مگر اس کا موثر علاج آٹومیشن ہے۔شبر زیدی نے کہا کہ ہم نے کہا تھا کہ ہم چھاپے نہیں ماریں گے، ابھی جو سب ہورہا وہ چھاپے نہیں بلکہ سخت چیکنگ ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ہم سیلز ٹیکس کی رجسٹریشن کو خودکار طریقے سے کرنے جارہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ نئے ایف بی آر میں نظام کو خودکار کردیا جائے گا اور اس ذاتی تعلق کو کم کیا جائے گا، اس کے علاوہ آڈٹ کی تعداد کو کم کیا جائے گا۔اس موقع پر سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے عوام کو بہت بڑی سہولت دی ہے اور 2018 کے ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کی تاریخ میں بھی 2 اگست تک توسیع کردی گئی ہے۔نئے ٹیکسز کے اعلان اور تاجر تنظیموں کی ہڑتال سے متعلق سوال پر چیئرمین ایف بی آرنے کہاکہ ہم نے کوئی نیا ٹیکسز نہیں لگایا، مجھے بتائیں کہ ہم نے کونسا نیا ٹیکس لگایا، سیلز ٹیکس میں کہیں اضافہ نہیں ہوا بلکہ صرف چینی کی قیمت میں 3 روپے 26 پیسے کا اضافہ ہوا ہے۔شبر زیدی نے کہا کہ یہ تاثر دینا کہ نیا ٹیکس لگایا ہے یہ غلط ہے، ہم نے ٹیکسٹائل کے شعبے پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا، برآمدی شعبہ پہلے بھی ٹیکس چھوٹ میں تھا

جبکہ مقامی شعبے میں پہلے سے ٹیکس عائد تھے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس نظام کو صحیح کرنے کے لیے جو تبدیلی کی گئی، اس میں کوئی بڑی تبدیلیاں نہیں ہیں، شناختی کارڈ کی شرط پہلے بھی تھی اور اب بھی ہے جو صرف سیلز ٹیکس کیلئے ہے۔چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ لوگوں نے چیزوں کو بہت بڑھا چڑھا دیا ہے، ہوسکتا ہے اس کی وجہ ہماری خامی ہو کہ ہم نے بہتر طریقے سے آگاہی نہیں دی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ٹیکس جمع کرنے کا سب سے آسان طریقہ

سیلز ٹیکس کو 17 سے بڑھا کر 18 یا 19 فیصد کرنا تھا مگر ہم نے ایسا نہیں کیا، اس حکومت نے اس بجٹ میں کوئی ٹیکس نہیں لگایا اگر لگایا ہے تو بتائیں وہ ٹیکس واپس لینے کو تیار ہیں۔مہنگائی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس کی ایک وجہ روپے کی قدر میں کمی اور ڈالر میں اضافہ ہے، مہنگائی کے حل کے لیے صنعتی ترقی اور روزگار کو بڑھانا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی بڑی وجہ مڈل مین کا کردار ہے، کیونکہ مڈل مین امیر سے امیر تر ہورہا ہے، جسے کم سے کم کرنا ہے۔

ریجنل آفس میں افسران سے خطاب کرتے ہوئے شبر زیدی نے کہا کہ ماضی میں زیرو ریٹنگ کے مختلف تجربات ہوچکے ہیں، ٹیکسٹائل کی موجودہ صورت حال کے مطابق زیرو ریٹنگ ختم کرنے کا فیصلہ کیا، ٹیکسٹائل کے مختلف سیکٹرز کے لوگوں سے پہلے بھی بات چیت ہوئی ہے، دورے کا مقصد صنعتکاروں کے تحفظات سننا اور دور کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ آٹھ مئی سے چارج لینے کے بعد آرڈر کیا تھا کسی کا اکاؤنٹ فریز نہیں کریں گے، سیلز ٹیکس کی رجسٹریشن میں کرپشن تھی اسے آٹومیٹ کررہے ہیں، تمام مسائل کا حل آٹومیشن ہے، آٹو میشن کیلئے اب آسانیاں موجود ہیں۔انہوں نے کہاکہ کاروباری لوگوں کی مشاورت سے نظام کو بہتر کیا جائے گاشبر زیدی نے کہا کہ شناختی کارڈ کی شرط پر مزاحمت کی وجہ کیا ہے یہ جاننا چاہتے ہیں، شناختی کارڈ کی ڈیمانڈ کوئی نئی چیز نہیں، قول وفعل میں کبھی تضاد نہیں رہا۔انہوں نے کہاکہ مہنگائی کی کچھ وجوہات میں ڈالر کی قدر میں اضافہ بھی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…