اندھے ہو ،کیا تمہیں نظر نہیں آتا۔۔احتساب عدالت سے واپسی پر گاڑی کا دروزہ لگنے پر حمزہ شہباز برہم،پولیس اہلکارکو دھکا دے دیا

  جمعہ‬‮ 5 جولائی‬‮ 2019  |  13:35

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)احتساب عدالت میں رمضان شوگر ملز کیس کے مقدمے میں نامزد ملزم شہباز شریف اور حمزہ شہباز عدالت میں پیش ہوگئے۔ عدالت کے باہر پولیس کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور غیر متعلقہ افراد کا داخلہ روک دیا گیا ہے۔مسلم لیگ (ن) کے کارکنان کی بڑی تعداد عدالت کے باہر موجود ہے۔میڈیا ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہرمضان شوگر ملز کیس میں گرفتار اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز گاڑی کا دروازہ لگنے پر غصّے میں آ گئے اور اس غلطی کا سبب بنے والے اہلکار کو بُرا بھلا کہنے کے بعد


اُسے پیچھے کو دھکا دے دیا۔ دریں اثنا مسلم لیگ ن کے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ رانا ثناء اللہ کے خلاف جب کچھ نہ ملا تو منشیات کا مقدمہ ڈال دیا حکومت ایسے بیچ نہ بوئے جس کا کاٹنا مشکل ہوجائے ان خیالات کا اظہار حمزہ شہباز نے جمعہ کے روز احتساب عدالت کے باہر صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے رانا ثناء اللہ کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھی نس چوری اور منشیات کے مقدموں کا سلسلہ بند نہیں ہوسکا حکومت کو سیاسی انتقام سے بالا تر ہوکر سامنے آنا چاہیے رانا ثناء اللہ کے خلاف کچھ نہ ملا تو منشیات کا مقدمہ ڈال دیا گیا رانا ثناء اللہ اور میرا خاندان ایک ہی ہے حکومت ایسے بیج نہ بوئے جس کا کاٹنا مشکل ہوجائے اس کے علاوہ احتساب عدالت میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی ملاقات بھی ہوئی اور کمرہ عدالت میں حمزہ شہباز نے داخل ہوتے ہی اپنے والد سے مصافہ کیا اور دونون باپ بیٹے نے ایک دوسری کی خیریت دریافت کی ۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

روکا روکی کا کھیل

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎