ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

ٹرانسپورٹ بھی بند، ہڑتال کا اعلان کردیاگیا

datetime 1  جولائی  2019 |

کراچی (این این آئی) سی این جی کی قیمت میں اضافے کے خلاف کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد نے آج(منگل) سے ہڑتال کا فیصلہ کیا ہے جب کہ آن لائن ٹیکسی سروس کریم نے بھی کرایوں میں 5 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ضمن میں کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ارشاد بخاری نے کہا ہے کہ سی این جی قیمت میں ہوشربا اضافے کے بعد بسیں چلانا ممکن نہیں، کرایوں میں اضافے کی بات بعد میں طے کریں گے۔

ارشاد بخاری نے کہا کہ سی این جی پمپس مالکان ہلکے ہلکے قیمتیں بڑھاتے رہے ہیں۔ دوسری جانب آن لائن ٹیکسی سروس کریم نے بھی سی این جی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کرایوں میں 5 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ کریم سروس کی جانب سے کراچی کے ڈرائیورز کو نوٹس جاری کیا گیا ہے کہ سندھ میں ٹیکس نفاذ کے بعد اضافی قیمت عوام سے اضافی کرایوں کی صورت میں لی جائے۔واضح رہے کہ سی این جی پر سیلز ٹیکس کے نئے اضافی ریٹس کے بعد فی کلو سی این جی پر 20 روپے اضافہ ہوا۔علاوہ ازیں ٹیکسوں کے نئے نظام کے خلاف ٹیکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری نے ہڑتال کردی جس کے باعث فیکٹریاں مکمل طور پر بند ہوگئیں۔نئی ٹیکس پالیسی کے خلاف فیصل آباد میں آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن (اپٹپما) کی ہڑتال کی اپیل پر ٹیکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری مکمل طور پر بند ہوگئیں جن میں ڈائنگ، پرنٹنگ اور بلیچ کی فیکٹریاں شامل ہیں۔دوسری جانب ایمبرائیڈری مشین ایسوسی ایشن نے بھی تین روز سے ہڑتال کا اعلان کیاجبکہ گوجرانوالہ میں بھی 17 فیصد ٹیکس لگانے کے خلاف 35 ہزار سے زائد پاور لومز نے ہڑتال کردی۔ پاور لومز ایسوسی ایشن کے مطابق حکومت بلاوجہ ٹیکس لگا کر مالکان کو تنگ کررہی ہے، پاور لومز بند ہونے سے ڈیڑھ لاکھ سے زائد مزدور بے روز گار ہوگئے، مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن (اپٹپما) کے چیئرمین حبیب گجر کے مطابق فیصل آباد بھر میں 150 پروسیسنگ یونٹ بند ہیں جبکہ پورے ملک میں تقریبا 600 بڑے یونٹس ہیں جو نئے ٹیکسز کی وجہ سے سب بند ہو رہے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت 7 دن میں ٹیکسٹائل چین مکمل کرے۔ایسوسی ایشن کے مطابق بجٹ اقدامات، گیس ٹیرف میں اضافے اور ڈالر کی قدر میں ہونے والی نمایاں کمی کے باعث مقامی ڈائنگ اور پرنٹنگ انڈسٹری کی کاروباری لاگت 40فیصد بڑھ گئی ہے جبکہ اس شعبے میں استعمال ہونیوالا خام مال بھی 30فیصد مہنگا ہوچکاہے۔کاروباری لاگت بڑھنے سے ٹیکسٹائل سیکٹر نے اپنی مصنوعات کی ڈائنگ اور پروسیسنگ کے آرڈرز منسوخ کردیئے ہیں یہی وہ عوامل ہیں جسکی وجہ سے ٹیکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری نے اپنی فیکٹریوں کو تالا لگانے کا فیصلہ کیاہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…