ابھی پیپلزپارٹی اور (ن) لیگ کو عمران کے ہاتھ نہیں لگے، جب لگے تو چیخیں لال حویلی تک آئینگی، شیخ رشید نے بڑا دعویٰ کردیا

  پیر‬‮ 11 فروری‬‮ 2019  |  21:39
اسلام آباد (این این آئی) وفاقی وزیرریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ملک میں وزیراعظم کی منظوری کے بغیر کوئی این آراونہیں ہوسکتا اور وزیراعظم عمران خان نے این آراوکا صفحہ ہی پھاڑدیا ہے، ابھی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کو عمران خان کے ہاتھ نہیں لگے، جب لگیں گے تب ان کی چیخیں لال حویلی تک آئیں گی، نوازشریف، مریم نواز اور آصف زرداری کے این آر اومانگنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے،پرویزمشرف کے ساتھ بھی این آراو شہبازشریف نے کیا تھا، اب بھی یہی کررہے ہیں، وہ اپنے بھائی کوسیاست سے مائنس کرنا چاہتے ہیں، اگر وہ سچے ہیں تو میرے ساتھ ٹی وی پرآجائیں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کر تے ہو ئے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) بیماری پر سیاست کررہی ہے،اِنہوں نے ماضی میں بھی ایسا ہی کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی سے عوام کی زندگی انتہائی مشکل ہوگئی ہے، عوام کے جذبات سے عمران خان کو آگاہ کردیا ہے، کابینہ کے اجلاس اپنا بل بھی لے کر گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ وزرات قانون کا خط موجود ہے جس کے مطابق وزیر پبلک اکاونٹس کمیٹی کا ممبربن سکتا ہوں، شہبازشریف ملزم اورمیں صادق اورامین ہوں،شہبازشریف اگر چیئرمین پی اے سی نہیں ہوں گے تومیں وہاں بھیجنے پربھی نہیں جاؤں گا۔ شیخ رشید نے کہا کہ جواسمبلی میں پہلی بار آئے اسے قانونی عہدے نہیں دینا چاہیے کہ اسے قانون کا علم نہیں ہوتا اور جیسا بتایا جاتا ہے ویسے ہی وہ کرتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جس جس کا نام نیب میں ہے وہ نیب قانون میں تبدیلی کے لیے اندرسے ایک ہیں لیکن یہ نہیں بدلنے دیں گے، احتساب سب کا ہونا چاہیے،چالیس کی فہرست میں آصف زرداری کا نام بھی ہے۔شیخ رشید نے کہا کہ عمران خان کے لیے پہلا سال مشکل ہے، وہ بہت محنت سے کام کررہا ہے، آگے آسانی ہے، جوکام کرے گا وہی کابینہ میں رہے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ریلوے کے کرائے مزید بڑھائیں گے،جناح اور سرسید وی وی آئی پی ٹرینیں چلاؤں گا، تمام ٹریکوں کا ٹینڈردیں گے، سو دنوں میں بیس ٹرینیں چلائی ہیں اور اتنی اور چلانی ہیں، ریلوے کا پہیہ چل پڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکلر ریلوے کیلئے اکیس ایکڑ زمین خالی کرادی ہے، سب لوگوں کی آباد کاری کیلئے کابینہ کی منظوری سے ایک روپے کنال زمین دوں گا، کے سی آر میں وفاق کا چالیس فیصد حصہ ہے لیکن وہ بھی سندھ حکومت لے لے۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں یہ پیپلزپارٹی کی آخری باری ہے۔

loading...