منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

عطاء آباد سانحے کے بعد،ہنزہ، گلیشیر میں اضافے سے ایک اورمصنوعی جھیل قائم،ڈیم کی شکل میں بننے والی جھیل کبھی بھی پھٹ سکتی ہے ،انتباہ جاری، ہنگامی اقدامات

datetime 11  فروری‬‮  2019 |

گلگت(این این آئی) گلیشیر میں مسلسل اضافے سے ڈیم کی شکل میں جھیل قائم ہوگئی جس سے ہنزہ میں عطا آباد جھیل جیسے سانحے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ میڈیا رپور ٹ کے مطابق گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (جی بی ڈی ایم اے) نے خبردار کیا کہ ڈیم کی شکل میں بننے والی جھیل کبھی بھی پھٹ سکتی ہے جس کی وجہ سے مقامی آبادی اور بنیادی انفرااسٹرکچر سمیت بڑے نقصانات ہوسکتے ہیں۔

ہنزہ کے حسن آباد گاؤں سے چند کلومیٹر دور خطرناک گلیشیئر میں گزشتہ سال مئی کے مہینے میں اضافہ شروع ہوا تھا۔غیر معمولی اضافے سے قریبی مچوہر گلیشیر سے نکلنے والے پانی کا راستہ رک گیا تھا جو عام طور پر حسن آباد میں دریائے ہنزہ سے ملتا تھا۔جی بی ڈی ایم اے حکام نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ ڈیم کی شکل میں بننے والی جھیل میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے اور وہ اب پھیل کر 700 میٹر تک پہنچ چکی ہے جس کی گہرائی 300 فٹ ہے جبکہ گلیشیئر میں 7 میٹر فی روز اضافہ بھی ہورہا ہے۔حکام کے مطابق ادارے کی تشخیص کے مطابق ممکنہ جھیل کے پھٹنے سے قراقرم ہائی وے کا ایک حصہ، ایک پل، حسن آباد کے تقریباً 100 گھر، 2 پاور ہاؤسز، فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کا کیمپ دفتر اور کئی سو کنال کی زرعی زمین تباہ ہوجائیگی اور اس کی وجہ سے دریائے ہنزہ کا بہاؤ بھی رک سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جی بی ڈی ایم اے گلیشیئر کے اضافے اور ڈیم کی شکل کی جھیل پر روزانہ کی بنیاد پر نظر رکھی جارہی ہے اور ماہرین نے علاقے کا دورہ بھی کیا ہے اور جھیل سے پانی کے رساؤ کی صورت میں ہونے والے ممکنہ نقصانات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ قبل از وقت وارننگ کے نظام کو علاقے میں لگایا جاچکا ہے جس میں سیٹلائٹ کیمروں کی سہولت بھی موجود ہے جبکہ مقامی افراد کو ہنگامی صورتحال کے لیے اقدامات کرنے کی تجویز بھی دے دی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر گلیشیر میں اس ہی رفتار سے اضافہ جاری رہا تو یہ آئندہ 2 ہفتوں میں 2 میگاواٹ کے حسن آباد پاور اسٹیشن سے ٹکرا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…