منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

’’نجی سکولوں کی انتظامیہ کی آنکھ میں شرم کا ایک قطرہ بھی نہیں‘‘ فیس کے عدالتی فیصلے کو ڈریکونیئن فیصلہ کہنے پر سپریم کورٹ نے ایسا کیا اقدام اٹھانے کا عندیہ دیدیاکہ مالکان کے وکیل معافی مانگنے لگے

datetime 11  فروری‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ میں نجی اسکولوں کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران جسٹس گلزار نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ نجی اسکولوں کی انتظامیہ کی آنکھ میں شرم کا ایک قطرہ بھی نہیں ہم اسکولوں کو بند اور نیشنلائیز بھی کرسکتے ہیں۔سپریم کورٹ میں جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے 2 نجی اسکولوں کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔

دورانِ سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے نجی اسکول کے حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی جرات کیسے ہوئی کہ اسکول فیس کے عدالتی فیصلے کو ڈریکونیئن فیصلہ کہا، والدین کو لکھے گئے آپ کے خطوط توہین آمیز ہیں۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ آپ کس قسم کی باتیں لکھتے ہیں، ہم آپ کے اسکولوں کو بند کر دیتے ہیں، نیشنلائز بھی کرسکتے ہیں، سرکار کو کہہ دیتے ہیں کہ آپ کے اسکولوں کا انتظام سنبھال لے۔عدالت کے اظہارِ برہمی پر نجی اسکول کے وکیل نے کہا کہ ہم عدالت سے معافی کے طلب گار ہیں، دوبارہ ایسا نہیں ہوگا۔اس پر جسٹس گلزار نے کہاکہ ٹھیک ہے آپ تحریری معافی نامہ جمع کرادیں ہم دیکھ لیں گے، آپ کے پاس کالا دھن ہے یا سفید، ہم آڈٹ کرالیتے ہیں، تعلیم کو کاروبار بنالیا ہے، اسکول پیسے بنانے کی کوئی صنعت نہیں، نجی اسکولوں کی انتظامیہ کی آنکھ میں شرم کا ایک قطرہ بھی نہیں، نجی اسکولوں سے بچے کتنی بیماریاں لے کر نکلتے ہیں۔نجی اسکول کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عدالت کی تضحیک کا کوئی ارادہ نہیں تھا، عدالتی فیصلے پر عمل کرکے فیس کم کردی ہے۔جسٹس گلزار احمد نے مزید ریمارکس دیے کہ عدالتی فیصلے کے بعد کس قسم کی باتیں کی گئیں،نجی اسکولوں سے کیوں نہ نمٹ لیں، حکومت کو نجی اسکول تحویل میں لینے کا حکم دے دیتے ہیں۔

اسکول انڈسٹری یا پیسہ بنانے کا شعبہ نہیں، نجی اسکول والے بچوں کے گھروں میں گھس گئے ہیں اور زہرگھول دیا ہے، نجی اسکول والے بچوں کے والدین سے ایسے سوال پوچھتے ہیں جن کا تصور نہیں کرسکتے، والدین بچوں کو سیر کرانے کہاں جاتے ہیں، نجی اسکول یہ پوچھنے والے کون ہوتے ہیں، جس اسکول کی فیس زیادہ ہو وہی مشہور ہوجاتا ہے۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 2 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…