ہفتہ‬‮ ، 10 جنوری‬‮ 2026 

معصوم بیٹی کا قتل ،ماں انتہائی اقدام پر کیوں مجبور ہوگئی؟بچی کا باپ کیا کرتا تھا؟ انتہائی افسوسناک انکشافات

datetime 6  فروری‬‮  2019 |

کراچی(یوپی آئی) کلفٹن کے علاقے میں معصوم بچی کو سمندر میں ڈبو کر قتل کرنے کے الزام میں زیر حراست ماں کے ساتھ اس کے شوہر اور والد سے بھی تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ملزمہ شکیلہ نے پولیس کو دیے گئے بیان میں کہا تھا کہ اس کے شوہر نے ایک ماہ قبل اسے بلاوجہ گھر سے بے دخل کردیا تھا

جبکہ اس کے باپ نے بھی گھر میں جگہ نہ دی جس پر وہ دربدر ہوگئی تھی اور اسی وجہ سے بچی سے چھٹکارا پا کر خود بھی مرنا چاہتی تھی۔واضح رہے کہ 4 فروری کی شام ڈیفنس کے علاقے میں فرحان شہید پارک کے قریب پیش آنے والے واقعے میں 28 سالہ شکیلہ راشد نے اپنی ڈھائی سالہ بیٹی انعم کو سمندر میں ڈبو دیا تھا جس کی لاش گزشتہ روز دودریا کے قریب سے برآمد ہوئی تھی۔ جس کے بعد ٹی وی اور سوشل میڈیا پر خاتون اور اس کے شوہر و والد پر سخت تنقید جاری تھی۔ اس حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ 28 سالہ خاتون کا اپنی بیٹی کو سمندر میں ڈبو کر قتل کرنا ذاتی فعل ہے تاہم اس حوالے سے بھی تحقیقات کی جائیں گی کہ ایسے حالات کیوں پیدا ہوئے کہ وہ اس انتہائی اقدام پر مجبور ہوئی۔ اس حوالے سے ملزمہ شکیلہ کے شوہر راشد شاہ اور والد سے تفتیش کی جائے گی پولیس حکام کے مطابق اس الزام کو قتل بالسبب کہا جاتا ہے جس پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 322 عائد ہوتی ہے۔  کلفٹن کے علاقے میں معصوم بچی کو سمندر میں ڈبو کر قتل کرنے کے الزام میں زیر حراست ماں کے ساتھ اس کے شوہر اور والد سے بھی تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ملزمہ شکیلہ نے پولیس کو دیے گئے بیان میں کہا تھا کہ اس کے شوہر نے ایک ماہ قبل اسے بلاوجہ گھر سے بے دخل کردیا تھا جبکہ اس کے باپ نے بھی گھر میں جگہ نہ دی جس پر وہ دربدر ہوگئی تھی اور اسی وجہ سے بچی سے چھٹکارا پا کر خود بھی مرنا چاہتی تھی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…