منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

یہ ہے عمران خان کا نیا پاکستان۔۔۔!!! جان بچانے والی جدید آلات سے لیس 4 ایمبولینسزکوصدر ،وزیر اعظم کے قافلےکا حصہ بنا دیا گیا، بیمار مریض تڑپ تڑپ کر مرنے لگے

datetime 6  فروری‬‮  2019 |

راولپنڈی(آن لائن ) بے نظیر بھٹو ہسپتال (بی بی ایچ) کی زندگی بچانے کے جدید آلات سے لیس 4 ایمبولینسز وی آئی پی ڈیوٹیز میں استعمال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔گزشتہ برس ہسپتال انتظامیہ نے مریضوں کی منتقلی کے لیے 4 جدید زندگی بچانے والی ایمبولینسز خریدیں تھیں جنہیں بعد میں وی آئی پی ڈیوٹیز کے لیے مختص کردیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ ایمبولینسز وزیراعظم اور صدر کے ایئرپورٹ جانے کے قافلے کا حصہ ہیں۔اس ضمن میں بی بی ایچ کے ایک سینئر ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ ایمبولینسز وینٹیلیٹر اور زندگی بچانے والے دیگر آلات سے لیس ہیں جن کی ضرورت تشویشناک حالت میں موجود مریضوں کی منتقلی کے لیے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان ایمبولینسز کا مقصد تشویشناک حالت میں موجود مریضوں کو ایم آر آئی ٹیسٹ کے لیے دوسرے ہسپتال پہنچانا یا دوسرے ہسپتال منتقل کرنا تھا۔انہوں نے بتایا کہ اب یہ ایمبولینسز وی آئی ڈیوٹیز میں استعمال ہورہی ہیں اور نازک صورتحال میں موجود مریضوں کی منتقلی کے لیے ہسپتال انتظامیہ کو امدادی سروس ریسکیو 1122 کو کال کرنی پڑتی ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ایمبولینسز کی خریداری پر 10 لاکھ روپے سے زائد کی رقم خرچ ہوئی جو سب ضائع ہوگئی۔اس سلسلے میں بی بی ایچ ہسپتال کے ایک اور سینئر ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ہسپتال کی پارکنگ میں جدید ایمبولینسز اس لیے کھڑی ہیں کیوں کہ ان کی رجسٹریشن کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا، اس کے لیے گاڑیوں کا معائنہ ہونا باقی ہے جس کے بعد انہیں مریضوں کی منتقلی کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق یا انکار کرنے سے گریز کیا کہ مذکورہ ایمبولینسز وی آئی پی ڈیوٹیز میں استعمال ہورہی ہیں۔

دوسری جانب ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہسپتال انتظامیہ کا نازک حالت میں حاملہ خواتین کو کمیٹی چوک پر موجود فلٹر کلینک سے بی بی ایچ منتقل کرنے کے لیے ایمبولینس استعمال کرنے کا ارادہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہسپتال کی ایمبولینس کو ریسکیو 1122 کو دے دیا گیا تھا لیکن ان ایمبولینسز کو اس لئے نہیں دیا گیا کہ یہ نازک حالت میں موجود مریضوں کے لیے خصوصی طور پر حکومتِ پنجاب کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت خریدی گئیں تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…