ہفتہ‬‮ ، 10 جنوری‬‮ 2026 

ایم پی اے ہاسٹل پر سابقہ سپیکرز ،وزراء اور سینیٹرز کاقبضہ،حیرت انگیز انکشافات

datetime 5  فروری‬‮  2019 |

کوئٹہ(آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی صدر و پارلیمانی لیڈر سرادر یار محمد رند سمیت دوسری جماعتوں سے تعلق رکھنے والے پارلیمانی لیڈروں کو اب تک کمرے الاٹ نہیں کئے بلوچستان اسمبلی میں متصل ایم پی اے ہاسٹل میں پارلیمانی لیڈروں اراکین اسمبلی کو کمرے الاٹ نہیں کئے گئے بلوچستان اسمبلی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈر کو ایم پی اے ہاسٹل میں ایک سوئٹ روم الاٹ کرنے کی اجازت ہے بلکہ ایم پی اے ہاسٹل پر سابقہ اسپیکر سابقہ وزراء اور

سابقہ سینیٹرز کا کمروں پر قبضہ جمع رکھے ہونے کا انکشاف ذرائع کے مطابق سابق اسپیکر بلوچستان اسمبلی سید مطیع اللہ آغا گذشتہ 10سال سے ایم پی اے ہاسٹل میں کمرے پر قبضہ کیا ہو اہے جس کو کئی بار نوٹس جاری کئے گئے مگر اب تک ان کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی اسی طرح سابق سپیکر جمال شاہ کاکڑ نے بھی ایک کمرہ الاٹ ہے مگر اب تک اسے خالی نہیں کیا جبکہ سابق سینیٹر مرحوم سردار اعظم موسیٰ خیل کے نام پر بھی ایک کمرہ الاٹ ہے مگر اب تک اسے خالی نہیں کیا گیا پشتون نخو ا میپ کے صوبائی صدر و سینیٹر عثمان کاکڑ کے نام پر بھی کمرہ الاٹ ہے مگر اب تک خالی نہیں کیا اور ایم پی اے ہاسٹل کی انتظامیہ بھی بے بس نظر آرہی ہے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سر اختر مینگل کے نام پر بھی ایک کمرہ الاٹ ہے جس کو اب تک خالی نہیں کرایا جا سکا اور اسی طرح سابق رکن قومی اسمبلی رؤف مینگل سابق رکن قومی اسمبلی عارفہ صدیق ،سابقہ نگران وزیر حسین بخش بنگلزئی ،سمیت کئی اعلیٰ سرکاری افسران نے کمرے الاٹ کئے ہیں مگر کئی سالوں بعد بھی خالی نہیں کرائے جا سکے ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ بلوچستان اسمبلی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈر کو ایم پی اے ہاسٹل میں ایک سوئٹ روم الاٹ کرنے کی اجازت ہے مگر نو سوئٹ رومز ہیں اب تک کسی بھی پارلیمانی لیڈر کو روم الاٹ نہیں کیا گیا تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی اسپیکرکو بھی رہائش میں مشکلات کا سامنا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…