جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

پولیس کو گشت کیلئے دی گئی کاریں پراسرار طور پر غائب ہو گئیں ٹویوٹا کرولا گاڑیوں سے کیا کام لیا جا رہا ہے؟ جان کر آپ کے ہوش اڑ جائینگے

datetime 30  ‬‮نومبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی(نیوز ڈیسک)محکمہ سندھ پولیس کوگشت اور دیگر امور کیلئے چند برسوں کے دوران دی جانے والی درجنوں کاریں پراسرار طورپر غائب کردی گئی ہیں۔کروڑوں روپے مالیت کی سوزوکی کمپنی کی آلٹو کار کے ساتھ راوی گاڑی اور ٹویوٹاکی ایکس ایل آئی کاریں دی گئی تھیں۔ اس ضمن میں ذرائع نے بتایاکہ زیادہ تر کاریں گشت کے بجائے افسران نے اپنے گھروں پر منتقل

کرکے گھریلو کاموں کے لیے وقف کررکھا ہے جبکہ کچھ گاڑیاں خراب ہو کر ورکشاپ اور تھانوں کے کباڑ کا حصہ بن گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق محکمہ سندھ پولیس کو چند سال قبل گشت میں گاڑیوں کی قلت کو دیکھتے ہوئے کروڑوں روپے مالیت کی درجنوں کاریں دی گئیں تھیں جن میں سوزوکی کمپنی کی آلٹو کار،راوی ٹویوٹا اورایکس ایل آئی شامل تھیں۔ ذرائع نے انکشاف کیا کہ محکمے کی جانب سے تھانوں کو دی جانیوالی کاریں چند ماہ علاقہ پولیس کے پاس نظر آئیں اور گشت میں بھی بہتری دیکھی گئی تاہم رواں برس کے آوائل سے ہی درجنوں گاڑیاں پراسرار طور پر غائب ہوگئی ہیں۔ جبکہ علاقہ پولیس کی جانب سے لا علمی کااظہار کیا جارہا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پہلے تو گاڑیاں تھانوں کو دی گئی تھیں بعد ازاں ان گاڑیوں پر افسران نے اپنا قبضہ کرلیا اور اپنے کاموں میں استعمال کرنے لگے۔ ذرائع نے انکشاف کیا کہ محکمے کی جانب سے تھانوں کو دی جانیوالی کاریں چند ماہ علاقہ پولیس کے پاس نظر آئیں اور گشت میں بھی بہتری دیکھی گئی تاہم رواں برس کے آوائل سے ہی درجنوں گاڑیاں پراسرار طور پر غائب ہوگئی ہیں۔ جبکہ علاقہ پولیس کی جانب سے لا علمی کااظہار کیا جارہا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پہلے تو گاڑیاں تھانوں کو دی گئی تھیں بعد ازاں ان گاڑیوں پر افسران نے اپنا قبضہ کرلیا اور اپنے کاموں میں استعمال کرنے لگے۔ اس کے بعد ایک ایک کرکے گاڑیاں غائب ہونا شروع ہوگئیں۔ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ گاڑیاں زیادہ تر اعلی افسران کے گھروں پر موجود ہیں جن پر نمبر پلیٹ پولیس کی لگی ہوئی ہے اور رنگ تبدیل کرنے کے ساتھ پولیس کی شناخت مٹادی گئی ہے اور ان گاڑیوں کو گھروں میں ذاتی استعمال میں لایا جارہا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…