جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

یہ اشتہار نہیں نوحہ ہے! ’’ماں کی تلاش‘‘ برطانیہ میں مقیم ڈاکٹر بیٹے نے پاکستان کے بڑے اخبار میں دل ریزہ ریزہ کر دینے والا اشتہار شائع کروا دیا، پڑھ کر کسی کو یقین ہی نہیں آ رہا کہ کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے؟

datetime 30  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

کراچی (نیوز ڈیسک) یہ اشتہار نہیں نوحہ ہے! ’’ماں کی تلاش‘‘ برطانیہ میں مقیم ڈاکٹر بیٹے نے پاکستان کے بڑے اخبار میں دل ریزہ ریزہ کر دینے والا اشتہار شائع کروا دیا، یہ اشتہار موقر روزنامہ ایکسپریس کے کراچی ایڈیشن میں 28 نومبر کو چھپا، اس اشتہار میں بیٹے ڈاکٹر ذیشان سبحانی نے اپنی والدہ کی تلاش کے لیے لکھا، وہ لکھتے ہیں کہ میں ڈاکٹر ذیشان سبحانی عرف شانی ولد قمر الزمان سبحانی،

ابتدائی رہائش A-399 ، بلاک ڈی، نارتھ ناظم آباد کراچی، ابتدائی تعلیم عظیم چلڈرن پیراڈائز سکول کے ڈی اے چورنگی نارتھ ناظم آباد سے حاصل کی اور اسی سکول سے 1988 میں میٹرک کیا، آدم جی سائنس کالج پٹیل پاڑہ کراچی سے 1990ء میں انٹر کیا، میڈیکل کی تعلیم 1996ء میں DOW میڈیکل اور سول ہسپتال کراچی سے مکمل کی بعدازاں میں ملک سے باہر چلا گیا اور تاحال اپنی فیملی کے ہمراہ ملک سے باہر ہی مقیم ہوں، مجھے اپنی والدہ محترمہ شائستہ اختر (بلی والی آنٹی) کی تلاش ہے، برسوں گزر گئے جب میری والدہ مُکا چوک عزیز آباد ایف بی ایریا کے پاس اور Wells bakery کی پچھلی گلی میں رہتی تھیں اور پھر وہاں سے منتقل ہو گئیں، اب مجھے ان کی رہائش سے متعلق کوئی علم نہیں، اس اشتہار کے ذریعے میں تمام افراد سے التماس کرتا ہوں کہ اگر کسی بھی شخص کو میری والدہ سے متعلق کوئی معلومات ہوں تو مطلع فرمائیں، آخر میں انہوں نے اپنا نمبر اور قریبی دوست کا نمبر دیا ہوا ہے۔ حیرت کی بات ہے اس شخص کو 22 سال بعد اپنی والدہ کی یاد آئی اور سب سے افسوسناک بات تو یہ ہے کہ اس کا اپنی والدہ سے رابطہ کیوں نہ رہا، اگر اس شخص کا والدہ سے رابطہ رہتا تو اسے اپنی والدہ کی پل پل کی خبر ہوتی کہ وہ کس حال میں ہیں زندہ ہیں یا مر چکی ہیں، جوان ہونے اور اپنا گھر بسا لینے کے بعد اولاد اپنے والدین کو کیوں بھلا دیتی ہے وہ والدین جو اسے انگلی پکڑ کر چلنا سکھاتے ہیں، اس کے پیشاب والے گیلے

بستر پر خود سوتے ہیں اور اسے سوکھی جگہ پر سلاتے ہیں، اپنی خواہشوں کا گلہ گھونٹ کر بچے کی خواہشیں پوری کرتے ہیں، کیا بڑھاپے میں یہی صلہ ہے کہ ان کو اکیلا چھوڑ دیا جائے، کاش اولاد والدین کے رتبے کو سمجھے اور انہیں وہ عزت دے جس کے وہ حقدار ہیں، ان کے بڑھاپے کا سہارا بنیں، جب والدین اپنے بچے کی انگلی پکڑ کرچلا سکتے ہیں تو بچے والدین کا ہاتھ تھام کر ان کا سہارا کیوں نہیں بن سکتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…