بدھ‬‮ ، 17 جون‬‮ 2026 

وزارت انسانی حقو ق نے ’’نئی بوتلوں میں پرانی شراب ‘‘ کے مترادف آٹھ نکاتی ایجنڈ ا پیش کردیا،متعدد منصوبے سابق دورمیں کس نے شروع کئے؟حیرت انگیزانکشافات

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد ( آن لائن ) وزارت انسانی حقوق نے وزیراعظم کے سو دن کے پلان کے تحت ’’نئی بوتلوں میں پرانی شراب ‘‘ کے مترادف آٹھ نکاتی ایجنڈ ا پیش کردیا۔متعدد منصوبے سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر کامران مائیکل کے دور میں شروع کیے گئے جنہیں نئی شکل دے کرپیش کیا جارہا ہے۔ ویب سائٹ پر جاری کردہ آئندہ کی منصوبہ بندی ہے جبکہ سودن سے متعلق رپورٹ پیش نہیں کی گئی۔

وزارت انسانی حقوق کی ویب سائٹ پر جاری کردہ سو دن کے پلان کے حوالے سے وزارت انسانی حقوق کی جانب سے نگرانی، کارکردگی انسانی حقوق رپورٹس پر مبنی 8نکاتی بنیادی پروگرام بنایا گیا ہے ۔ آٹھ نکات کے تحت بین الاقوامی معیار کے حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ وزارت انسانی حقوق کے تحت وفاقی و صوبائی شہروں لاہور، کوئٹہ ، کراچی، پشاور میں برانچیں قائم کی گئی ہیں جبکہ ہیڈ آفس اسلام آباد میں قائم کیا گیا ہے۔ پروگرام پر عمل درآمد کے لئے انسانی حقوق کی ان برانچوں میں 330 افراد خدمات سرانجام دیں گے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کیلئے صوبائی وزارتیں موجود ہیں جو صوبائی سطح پر اپنے فرائض سرانجام دے رہیں اور انکے وزراء بھی وفاق کے ماتحت کام نہیں کرتے ۔پہلے پوائنٹ میں قوانین اور نظرثانی کے تحت وطن عزیز کے تمام شہریوں کو درپیش مشکلات و صورتحال کاجائزہ قانون سازی اور پالیساں بنائی جائیں گی،اس میں وفاق اور صوبوں کی صورتحال شامل ہوگی۔ دوسرے ایجنڈے میں بین الاقوامی ذمہ داریوں کے حوالے سے ہے، اس میں بین الاقوامی معاہدوں کے تحت لکھی رپورٹس کا جائزہ لیا جائے گا جبکہ نئی رپورٹ لکھی جائیں گی۔ بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درآمد اور مانیٹرنگ سسٹم سے متعلق ہے،جس کے تحت معاہدوں پر عمل درآمد کے لیئے ’’ سیل‘‘ قائم کیا گیا ہے جبکہ نیشنل ایکشن پلان بھی اس کا ایک حصہ ہے۔اس پروگرام کے تحت آگاہی مہم شروع کی جائے گی

جس کے تحت عوامی آگاہی ، تعلیمی اداروں کی سطح پر آگاہی پروگرام شامل ہے جبکہ اس حوالے سے عدلیہ سے بھی معاونت حاصل کی جائے گی ۔ پوائنٹ نمبر پانچ یہ انسانی صورتحال کے جائزہ سے متعلق ہے اس کے تحت انفرادی شکایات کے اندراج اور اس کے ازالے کا نظام قائم کیا جائے گا۔پوائنٹ نمبر چھ حکومتی فنگشن سے متعلق ہے، اس میں NCHRا یکٹ،NCSWایکٹ شامل ہیں۔ساتویں پوائنٹ کے تحت سماجی تحفظ انسانی سروس سے متعلق ہے جس کے تحت خواتین اوربچوں کو شلٹرز،

ہوسٹل فراہم کئے جائیں۔ پوائنٹ نمبر آٹھ قانونی اور جائزہ سروس سے متعلق ہے جس کے تحت لیگل ایڈفراہم کرنے کے لئے’’ لیگل ہیلپ سروس‘‘ قائم کی جائے گی، جبکہ ایک ریلیف فنڈ بھی قائم کیا جائے گا۔ واضع رہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت این سی ایچ آر اور این سی ایس ڈبلیو پہلے ہی کام کررہے ہیں اور عوامی مسائل کے حل اورانہیں مفت قانونی مشاورت کیلئے گزشتہ دور حکومت میں سینیٹر کامران مائیکل نے ہیلپ لائن قائم کی تھی۔ جبکہ بچوں او ر خواتین کیلئے شلٹرر ہومز سابقہ ادوار سے کام کررہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Pale Blue Dot


کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…