ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

بھارت سے آئے اس سکھ یاتری سے گلے ملنے والی یہ 2 پاکستانی مسلمان خواتین کون ہیں اور ان کا آپس میں دراصل کیا رشتہ ہے؟ ایسا انکشاف کہ آپ کی آنکھیں بھی نم ہوجائیں گی

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)بابا گورو نانک کے جنم دن کی تقریبات میں شرکت کیلئے بھارت سےآئے 72سالہ بزرگ سکھ یاتری کو تقسیم ہند کےموقع پر بچھڑی ہوئی دو سگی بہنیں مل گئیں، تینوں بہن بھائی ایک دوسرے سے لپٹ کر روتے رہے۔ تفصیلات کے مطابق ننکانہ صاحب میں سکھوں کے روحانی پیشوا بابا گورو نانک کے جنم دن کی تقریبات جاری ہیں

جہاں دنیا بھر سے سکھ یاتریوں کی پاکستان آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ تقریبات میں شرکت کے لیے بھارت سے آئے ایک سکھ یاتری کی 70 سال بعد اپنی دو سگی بہنوں سے ملاقات ہوئی ہے۔سردار بے انت سنگھ کا خاندان 1947ءمیں تقسیمِ پاکستان کے دوران بچھڑ گیا تھا اور 70 سال سے ان کی بہنیں پاکستان میں ہی مقیم تھیں، بے انت سنگھ کی بہنیں الفت اور معراج بی بی نے اسلام قبول کرلیا تھا بھائی سے ملاقات میں انتہائی جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے اور فرطِ جذبات میں تینوں بہن بھائی گلے لگ کر زار و قطار روتے رہے۔بہنوں نے کہا کہ ہم اپنی والدہ اللہ رکھی سے پوچھتے کہ ہمارا کوئی بھائی نہیں ہے تو وہ ہمیں بتاتی تھیں کہ تمہاری بڑی بہن اور بھائی قیام پاکستان کے وقت بھارت میں رہ گئے تھے، ہمارے بھائی کی اس وقت عمر ڈیڑھ سال تھی، ہمارے اصرار پر ہماری ماں نے بھارت میں رہنے والے اپنے ہمسائے سردار مکھن سنگھ کو خط لکھے جو ہمارے والد کے قریبی دوست تھے اور اپنی تصویریں بھیجیں جس کے جواب میں سردار مکھن سنگھ نے ہمیں بھائی بے انت سنگھ پراچہ کے متعلق بتایا اس طرح ہمارا ڈاک اور ٹیلی فون کے ذریعے اپنے بھائی سے رابطہ ہوگیا۔بھارت سے آئے سردار نرپال سنگھ نے بتایا کہ میں سردار بے انت سنگھ کو بچھڑی ہوئی بہنوں سے ملانے کے لیے پاسپورٹ بنوا کر پاکستان لے کر آیا تو سیکیورٹی والوں نے اس کی بہنوں کو گورودارا جنم استھان میں

داخل نہیں ہونے دیا جس پر میں نے پنجابی سکھ سنگت کے چیئرمین سردار گوپال سنگھ چاؤلہ کے ذریعے تینوں بھائی بہنوں کو ملایا۔الفت بی بی ضلع شیخوپورہ کے محلہ شیش محل اور معراج بی بی لاہور کے علاقہ شاہدرہ کی رہائشی ہیں۔ دونوں بہنوں نے وزیراعظم عمران خان سے اپیل کی ہے کہ اگر ہمارے بھائی کو پاکستانی شہریت نہیں دی جاسکتی تو کم از کم اس کے ویزا میں ہی توسیع کردی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…