شہباز شریف پر ریفرنس اور خواجہ برادران کی گرفتاری کی خبر دینے والے ڈی جی نیب لاہور سلیم شہزاد خود پھنس گئے، ڈگری ہی جعلی نکلی لائیو شو میں شاہزیب خانزادہ اور رپورٹر وسیم عباسی نے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا

  جمعہ‬‮ 9 ‬‮نومبر‬‮ 2018  |  14:50

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ڈی جی نیب لاہور سلیم شہزاد اور معروف صحافی و اینکر شاہزیب خانزادہ کے درمیان گرما گرم بحث، آپ یہاں بیٹھ کر پگڑیاں اچھالتے ہیں، سلیم شہزاد اپنی ڈگری کو جعلی کہنے پر تپ گئے، آپ نے بھی کاشف عباسی کے پروگرام میں کہا کہ فواد حسن فواد شہباز شریف کو دیکھ کر رونے لگے اور کہا کہ میاں صاحب! جو کچھ آپ نے کہا وہ میں نے کیا، یہ سب کیا پگڑی اچھالنا نہیں؟ شاہزیب خانزادہ کا جواب، جنگ ، جیو کے رپورٹر نے میری ڈگری کے جعلی ہونے کے حوالے سے غلط رپورٹنگ پر مجھ سے معافی

مانگی، سلیم شہزاد کا دعویٰ، شاہزیب خانزادہ نے فوراََ رپورٹر وسیم عباسی کو لائن پر لے لیا، وسیم عباسی کی سلیم شہزاد کے دعوے کی تردید، آپ کی ڈگری جعلی ہے ،اپنی رپورٹ پر قائم ہوں، آپ اپنی صحافتی حدود میں رہیں، سلیم شہزاد کی شاہزیب خانزادہ کو وارننگ، کیا نیب کا کام تفتیش کر کے ریفرنس دائر کرنا ہے یا میڈیا پر آکر بیان بازی کرنا، شاہزیب خانزادہ کا سخت جواب۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ڈی جی نیب لاہور سلیم شہزاد نے پانچ مختلف نجی ٹی وی چینلز کو انٹرویوز دئیے ہیں اورجب وہ جیو نیوز کے پروگرام ’شاہزیب خانزادہ‘میں معروف اینکر شاہزیب خانزادہ کے مختلف سوالات کا جواب دے رہے تھے تو اس دوران دونوں کے درمیان گرما گرمی بھی ہوئی۔ شاہزیب خانزادہ نے ڈی جی نیب سلیم شہزاد سے سوال کیا کہ ایک شخص کو آپ نے پانچ ماہ سے گرفتار کر رکھا ہے اور یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی آپ سے آپ کا جو آپ کی جعلی ڈگری کے حوالے سے معاملہ ہوا تھا اس حوالے سے سوال کرے اور پھر آپ پر آمدن سے زائد اثاثوںکا کیس بنا دےتو کیا آپ سوال نہیں اٹھائیں گے کہ یہ کیا کر رہے ہیں آپ میرے ساتھ؟اس پر سلیم شہزاد نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ چلیں آپ نے جو ایک میری جعلی ڈگری کے حوالے سے جو ایک مزیدار شوشہ چھوڑا ہے اس پہ بھی بات کر لیتے ہیں پہلے، کیا آپ کو پتہ ہے کہ وہ ڈگری جعلی نہیں ہے اور آپ کس طریقے سے بدنام کر رہے ہیں میڈیا پر بیٹھ کر ، آپ کو پتہ ہے اس کا کون خمیازہ بھگتے گا، اگر وہ ایچ آئی سی نے تصدیق کی ہوئی ہے تو اس جھوٹ کا خمیازہ کون بھگتے گا؟یہ پگڑیاں آپ نہیں اچھال رہے، اس موقع پر شاہزیب خانزادہ نے سوال کیا کہ کیا آپ نے اصلی ڈگری نیب میں جمع کروا دی ہے؟جس پر سلیم شہزاد کا کہنا تھا کہ کروا دی ہے میں نے ، آپ کو نہیں جمع کروانی انہی کو جمع کروانی ہے، میری ڈگری ایچ آئی سی نے ویری فائی کی ہوئی ہے، سب کے پاس پڑی ہے، یہ جھوٹاڈرامہ میں بہت دیر سے سن رہاہوں۔ اس پر شاہزیب خانزادہ کا کہنا تھا کہ وسیم عباسی کی 9اکتوبر کی سٹوری ہے ۔ ڈی جی نیب لاہور کا اس موقع پر کہنا تھا کہ وسیم عباسی کو کہیں کہ میرے سامنے آئے، میں دو مرتبہ وسیم عباسی سے ملا ہوں۔ انہیں میں نے دو مرتبہ اصلی ڈگری دکھائی ہے، اس نے میرے سے ایک مرتبہ معافی مانگی ہے اور اس کا کہنا تھا کہ ہاں !آپ صحیح کہتے ہیں مجھ پر پریشر بڑا تھا، پتہ نہیں کونسے پریشرز پر آپ خبریں لگاتے ہیں ۔ ڈی جی نیب لاہور کے اس دعوے پر شاہزیب خانزادہ نے پروگرام پروڈیوسر سے فوری طور پر کہا کہ وسیم عباسی کو لائن پر لیا جائے تاکہ ان سے اس حوالے سے سوال کیا جاسکے۔ شاہزیب خانزادہ نے اس موقع پر سلیم شہزاد سے سوال کیا کہ وسیم عباسی نے آپ سے 2002میں کیلبری فائونٹ سے متعلق سوال کیا کہ آپ کی ڈگری کیلبری فائونٹ میں کیسے ہے؟یہاں تو مریم نواز کی ٹرسٹ ڈیڈ 2006میں کیلبری فائونٹ سے متعلق مسئلہ بنا۔ جس پر ڈی جی نیب لاہور کا کہنا تھا کہ وہ وسیم عباسی نے بنائی ہو گی ، اس سے پوچھ لیں کہ کیلبری فائونٹ کیا ہوتا ہےوہ بتا دیگا؟اس موقع پر شاہزیب خانزادہ نے ڈی جی نیب لاہور سے سوال کیا کہ کیا آپ کی ڈگری کیلبری فائونٹ میں ہے؟جس پر ان کا کہنا تھا کہ آپ ڈگری لیکر کہیں سے بھی ریسرچ کروا لیں وہ کس فائونٹ میں ہے؟ پتہ چل جائیگا ، مجھے نہیں پتہ کہ وہ کس فائونٹ میں ہے۔شاہزیب خانزادہ نے دوبارہ سوال کیا کہ کیا یہ بات ٹھیک ہے کہ آپ نے نیب سے اس کورس کیلئے این او سی حاصل نہیں کیا تھا؟اس پر ڈی جی نیب لاہور سلیم شہزاد کا کہنا تھا کہ اس قسم کی فضول باتیں مہربانی کر کے نہ کریں، آپ نے جس مقصد کیلئے بلایا ہے اس مقصد پر رہیں، اگر آپ نے تماشہ بنوانا ہے تو میری طرف سے معذرت ہے میں اس میں دلچسپی نہیں رکھتا، کیا یہ سوال ہوتے ہیں؟آپ تو اپنے سامنے والے کا مذاق اڑا رہے ہیں، شاہزیب خانزادہ کا کہنا تھا کہ جب آپ نے ڈگری حاصل کی تو اس وقت تو یونیورسٹی کا کیمپس ہی نہیں تھا، میں جو سوال کیسز کے حوالے سے آپ سے کرتا ہوں آپ کہتے ہیں کہ آپ کو باریک بینی سے نہیں پتہ، جو سوال میں آپ کی ڈگری کے حوالے سے کرتا ہوں تو آپ کو آپ کا کیلبری فائونٹ نہیں پتہ، پھر آپ کو کیا پتہ ہے کیسز کے حوالے سے؟آپ مجھے بتا دیں کہ شہباز شریف پر نیب کیسز میں کیا الزام ہے تاکہ ہمیں پتہ ہو کہ شہباز شریف نے قوم کو کتنا لوٹا ہے؟آپ بتائیں کہ شہباز شریف نے قوم کا کتنا پیسہ لوٹا ہے تاکہ قوم کو بھی پتہ چلے ۔ ڈی جی نیب سلیم شہزاد کا کہنا تھا کہ میں نے پچھلے ایک گھنٹے میں آپ کو 50جواب دئیے ہیں، آپ ہر بات شہباز شریف ، ہر گھنٹے بعد شہباز شریف پتہ نہیں آپ کو کیا غم لگ گیا ہے شہباز شریف کا۔ میں نے آپ کو بتا دیا ہے ، مہربانی کر کے آپ مجھ سے بار بار ایک ہی سوال نہ کریں۔ شاہزیب خانزادہ کا کہنا تھا کہ یہ تو نہیں ہو گا کہ آپ دیگر چینلز پر بیٹھ کر کہیں کہ فواد حسن فواد جیسے ہی شہباز شریف کے سامنے آئے تو رونے لگ گئے اورکہا کہ میں نے تو آپ کے کہنے پر سب کچھ کیا؟ یہ بھی تو آپ پگڑیاں ہی اچھال رہے ہیں نہ پروگرامات میں بیٹھ کر ، آپ ڈی جی نیب ہیں آپ ٹاک شوز میں کیوں جا رہے ہیں؟آپ جا کر تفتیش کریں اور ریفرنس فائل کریں ، آپ تو پگڑیاں اچھال رہے ہیں کہ تفتیش کے دوران کیا ہوا؟میڈیا چینلز پر جا کر بتا رہے ہیں؟ڈی جی نیب لاہور جا کر اس قسم کی باتیں میڈیا چینلز پر کر رہا ہے ؟ کیا آپ کا کام ریفرنس فائل کرنا ہے یا میڈیا پر جا کر اس قسم کی باتیں کرنا ؟ سلیم شہزاد کا اس موقع پر کہنا تھا کہ میرے دونوں ہی کام ہیں، آپ مجھے ایڈوائز نہ دیں کہ مجھے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ، آپ میڈیا کی حدود تک ہی رہیں، مجھے اپنی حدود کا بھی پتہ ہے، اس موقع پر شاہزیب خانزادہ کا کہنا تھا کہ آپ پبلک سرونٹ ہیں اور اپنی چوائس پر پروگرام میں آئے ہیں تو پھر ہم آپ سے سوال بھی کرینگے، اس موقع پر ڈی جی نیب لاہور سلیم شہزاد کی جعلی ڈگری کے حوالے سے رپورٹ دینے والے وسیم عباسی بھی لائن پرآگئے ، شاہزیب خانزادہ نے وسیم عباسی سے سوال کیا کہ عباسی صاحب! آپ نے ڈی جی نیب لاہور سلیم شہزاد کی جعلی ڈگری کی سٹوری کر دی اور پھر معافی مانگی کہ آپ پر بڑا پریشر تھا، اس پر وسیم عباسی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ بالکل غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں، میں نے ان سے کوئی معافی نہیں مانگی اور نہ ہی میں ایسی کوئی سٹوری کرتا ہوں کہ جس پر مجھے بعد میں معافی مانگنی پڑے، ان کی ڈگری ایچ ای سی سے اگر تصدیق ہوئی تھی تو ایچ ای سی نے کورٹ میں جا کر بتایا ہے کہ یہ غلطی سے ویری فائی ہوئی ہے کیونکہ ان کی ڈگری بالکل جعلی ہے، اور میں ان کو چیلنج کرتا ہوں کہ یہ ایچ ای سی یا کسی بھی اور طرح سے ثابت کریں کہ ان کی ڈگری اصلی ہے، ان کی ڈگری الخیر یونیورسٹی کی ہے جو کہ ریکگنائز ہی نہیں اور یہ اس وقت اسلام آباد میں نوکری پر تھے جب انہوں نے ڈگری لی، جبکہ الخیر کیمپس ریکگنائز ہی نہیں تھا۔ اور یہ بالکل ثابت ہو چکا ہے کہ ان کی ڈگری جعلی ہے اور ان کے حق میں کسی بھی جگہ تصدیق نہیں ہوئی، یہ جب ڈی جی نیب پشاور تھے تو انہوں نے اپنی ڈگری اس وقت ویری فائی کروائی تھی، شاید دبائو کے تحت ایچ ای سی پشاور کے آفیشل کے ذریعے، جبکہ ایچ ای سی نے بعد میں پشاور ہائیکورٹ کو بتایا کہ انہوں نے ان کی ڈگری غلطی سے ویری فائی کر دی تھی، اس کے ڈاکو مینٹس میں نے آپ کو دئیے ہوئے ہیں اور آپ ان کو سکرین پر بھی چلا سکتے ہیں۔ اس موقع پر شاہزیب خانزادہ نے ڈی جی نیب سلیم شہزاد سے سوال کیا کہ آپ تو کہہ رہے تھے کہ وسیم عباسی معافی مانگ چکے ہیں اور انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے دبائو کے تحت سٹور ی دی تھی مگر وہ تو اپنی سٹوری پر قائم ہیں۔ جس پر جواب دیتے ہوئے سلیم شہزاد کا کہنا تھا کہ اب ان کی مرضی ہے جو مرضی یہ کریں، یہ مجھے دو مرتبہ ملے ہیں، دو مرتبہ میں نے انہیں سمجھایا ہے ، ایک بار انہوں نے بڑے اچھے طریقے سے بات کو سمجھا ، اور انہوں نے مجھے کہا کہ ’آئی سٹینڈ کریکٹڈ‘اب اگر یہ نہیں ماننا چاہتے تو میں کیا کر سکتا ہوں۔ بہرحال میں اپنی سٹوری پر قائم ہوں ، آپ اپنی پر قائم رہیں، فکر نہ کریں میں پیچھے نہیں ہٹ رہا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں