کراچی کی نائٹ پارٹیاں: مگر ان پارٹیوں میں دراصل ہوتا کیا ہے، کمروں اور چابیوں کی کہانی کیا ہے؟ اندر کے حالات سے واقف ایک شوقین کے حیران کن انکشافات

  جمعرات‬‮ 8 ‬‮نومبر‬‮ 2018  |  20:05

کراچی (نیوز ڈیسک) کراچی میں بوٹ بیسن پولیس نے گزشتہ روز کلفٹن کے علاقے میں کامیاب کارروائی کرتے ہوئے غیراخلاقی گروپ چلانے والا کارندہ گرفتار کر لیا، ملزم فیس بک پر غیراخلاقی پیج چلا رہا تھا۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق پولیس نے ڈرٹی پارٹی کے منتظم کو گرفتار کر لیا ہے، اس نے فیس بک پر اپنا ایک پیج بنا رکھا تھا وہ اس کے ذریعے نائٹ پارٹیاں ارینج کرتا تھا اور پیشکش کی جاتی تھی کہ بیوی یا ساتھی کا تبادلہ کیا جا سکتا تھا، ڈرٹی پارٹی کا فیس بک پر پیج سامنے آنے کے بعد

سوشل میڈیا اور اخبارات میں شدید تنقید کی گئی، جس کے بعد پولیس ملزم کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئی، بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے اپنے ایک مخبر کے ذریعے اس پارٹی کا ٹکٹ خریدا اور ملزم کو اس ٹکٹ کے بدلے پندرہ ہزار روپے دیے گئے، جب ایک دوسرے مخبر کے ذریعے رابطہ کیا گیا کہ پارٹی کب ہے تو جواب دیا گیا کہ کوئی پارٹی نہیں ہے میں دھوکہ دے رہا ہوں، پولیس نے اسے اس کے نمبر سے ٹریک کیا اور گرفتار کر لیا، ملزم ارسلان قمر مزید دو افراد سے بھی پیسے وصول کر چکا تھا جو اس نے ایزی پیسہ کے ذریعے وصول کیے۔ واضح رہے کہ کراچی جیسے شہر میں پارٹیز عام ہیں مگر ان کی نوعیت مختلف ہوتی ہے، ایس پی سوہائی عزیز کا کہنا ہے کہ ہم ’مورل پولیسنگ‘ نہیں کریں گے کیونکہ یہ سب کا اپنا ذاتی فعل ہے، تاہم پارٹی اگر ڈانس پارٹی ہے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں لیکن اگر پارٹی کا مطلب ہے کہ اس میں آئس، چرس، کوک و دیگر منشیات استعمال کی جائیں گی تو یہ قابل قبول نہیں۔ گرفتار کیا گیا ملزم ارسلان قمر ایونٹ منیجر ہے وہ اس سے پہلے بھی پارٹیاں منعقد کرا چکا ہے، ایس پی سوہائی نے کہا کہ ایک تو یہ دھوکہ دہی کا عمل تھا اور دوسرا یہ بہت ہی غیر اخلاقی اقدام تھا کیونکہ ساتھی کا تبادلہ انتہائی غیر اخلاقی عمل ہے اور یہ ہمارے معاشرے میں بھی قابل قبول نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ پولیس کو یقین ہے کہ ملزم ارسلان قمر نے کبھی ’’وائف سواپنگ‘‘ یا ’’سوئینگنگ‘‘ پارٹیوں کا انعقاد نہیں کیا مگر اس میں لوگوں کی دلچسپی موجود ہے، بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ایک غیر ملکی جریدے میں شائع ہونے والے ایک ذاتی اکاؤنٹ میں ایک شخص جو بقول اس کے اسی کی دہائی تک کراچی میں سوئنگنگ پارٹیوں کا انعقاد کرتا تھا، اس شخص نے اپنیآخری پارٹی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آخری پارٹی 1980ء کی دہائی میں رکھی گئی، اس پارٹی میں گھر کو مغل سٹائل کے طور پر سجایا گیا۔ ایک مصنفہ سائرہ میر نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ 1970ء میں کراچی میں کی کلب کی بنیاد رکھی گئی، رپورٹ کے مطابق پارٹیوں میں شریک ایک نوجوان نے بتایا کہ سوئنگنگ پارٹی زیادہ تر20 سے 40 افراد پر مشتمل ہوتی ہے، ان پارٹیوں میں زیادہ تر لوگ ایک دوسرے کے واقف ہوتے ہیں اور اسے کی کلب بھی کہا جاتا ہے، ایک کلب، گھر، یا ہوٹل میں کمرے بک کیے جاتے ہیں اور ان کی چابیاں باہر موجود ہوتی ہیں جو تقسیم کر دی جاتی ہیں، اب اس کرے میں جو مرد یا خاتون ہے وہ اس کا ساتھی بھی ہو سکتا ہے اور کوئی اور بھی، رپورٹ میں بتایا گیا کہ بعض دفعہ تو یہ ہوتا ہے کہ تمام گاڑیوں کی چابیاں ایک جگہ جمع کر دی جاتی ہیں وہ چابیاں خواتین میں تقسیم کر دی جاتی ہیں وہ ان میں جا کر بیٹھ جاتی ہیں اور مرد اپنی گاڑیوں میں پہنچتے ہیں تو انہیں کوئی دوسرا ساتھی مل جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں