بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

آسیہ بی بی کیس کے فیصلے کے بعد چیف جسٹس سمیت دیگر ججز کی سکیورٹی پر تعینات اہلکاروں کیساتھ کیا کام شروع کر دیا گیا؟ اب وہ کن حالات سے گزر رہے ہیں؟جانئے

datetime 8  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)آسیہ مسیح فیصلے کے بعد سکیورٹی خدشات، چیف جسٹس ثاقب نثار اور دیگر ججز کی سکیورٹی پر تعینات اہلکاروں کی سکریننگ کا عمل شروع، تفصیلات کے مطابق آسیہ مسیح کی رہائی کے فیصلے کے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار اور دیگر ججز کی سکیورٹی پر پیدا ہونیوالے خدشات کے بعد سکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں کی سکریننگ کا عمل شروع کر دیا گیا ہے

اور اس حوالے سے ججز، ان کے گھروں اور عدالتی حدود میں تعینات سکیورٹی اہلکاروں کو سوالنامے دے دئیے گئے جبکہ ان سکیورٹی اہلکاروں کے تفصیلی انٹرویوز کا عمل بھی جاری ہے۔ قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق سوالنامے میں سکیورٹی اہلکاروں سے سوال پوچھا گیا ہے کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہمارے ملک کی پالیسی مغربی ممالک کے دبائو کا شکار ہے؟ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بارے میں رائے اور ملکی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار آپ کس کو سمجھتے ہیں؟ نماز عموماً کہاں اور کس جگہ ادا کرتے ہیں؟ لال مسجد اور اس کی انتظامیہ کے بارے میں آپکی کیا رائے ہے؟ کس اسلامی فرقے کو آپ اسلام کے زیادہ قریب سمجھتے ہیں؟ کیا دہشت گردوں کی ’سزائے موت‘ کا فیصلہ درست ہے؟ کونسا نظام تعلیم بہتر ہے؟ مدرسہ یا سکول؟ قرآن مجید پڑھا یا حفظ کیا ہے اگر حفظ کیا ہے تو کون سے مدرسے سے فارغ التحصیل ہیں؟جبکہ ان اہلکاروں سے ڈیوٹی کے حوالے سے بھی سوال کیا گیا ہے کہ آیا وہ اپنی تعیناتی اور ڈیوٹی سے مطمئن ہیںاور ان کو کون کونسے محکمانہ مسائل درپیش ہیں جبکہ ان کی من پسند پوسٹنگ سے متعلق بھی سوال کیا گیا ہے۔ ان سکیورٹی اہلکاروں کے انٹرویو ڈی آئی جی سکیورٹی وقار چوہان کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی سپریم کورٹ میں کررہی ہے جس میں ایس ایس پی، ایس پی سپریم کورٹ، ڈی ایس پی سپریم کورٹ، ڈی ایس پی سکیورٹی، اے آئی جی سپیشل برانچ اور دو ڈاکٹرز بھی شامل ہیں۔ واضح رہے کہ آسیہ مسیح کا فیصلہ آنے کے بعد مذہبی جماعتوں کی طرف سے فیصلہ دینے والے ججز کے خلاف فتویٰ دیا گیا تھاجس کے بعد ان ججز کی سکیورٹی کے حوالے سے خدشات پیدا ہو گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…