منگل‬‮ ، 14 جولائی‬‮ 2026 

زینب سمیت 8بچیوں کا قاتل عمران اپنے انجام کو پہنچ گیا مگر اس نے اپنے جرائم کی ابتدا کہاں سے کی؟وہ کونسی چیز تھی جو اسے معصوم بچیوں سے زیادتی اور انکے قتل پر مجبور کر دیتی تھی؟ وہ بات جو آج تک سامنے نہ آسکی

datetime 19  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)قصور کی ننھی پری زینب سمیت 8بچیوں کا قاتل عمران اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے، کوٹ لکھپت جیل لاہور میں درندہ صفت قاتل کو زینب کے والد امین انصاری اور متعلقہ حکام کے سامنے تختہ دار پر لٹکایاگیا۔ بدبخت عمران سے متعلق اس کی گرفتاری کےوقت یہ انکشاف بھی سامنے آیا تھا وہ شادی شدہ ہے اور اس کی دو بیویاں ہیں تاہم عمران خوف کی وجہ سے

بچیوں کو تو زیادتی کے بعد قتل کر دیا کرتا تھا مگر وہ ہوس میں بچیوں کو کیوں نشانہ بناتا تھا اسے ایسا کرنے پر کون مجبور کرتا تھا ؟اس بات کا انکشاف خود عمران نے اپنے اعترافی بیان میں کیا ہے۔ دوران تفتیش عمران کا کہنا تھا کہ قبحہ خانوں اور فحش فلم بینی نے اسے درندہ بنایا ، وہ غیر اخلاقی اور فحش فلمیں دیکھ کر اپنے جذبات پر کنٹرول نہیں کر سکتا تھا اور اپنے جذبات کی تسکین کیلئے معصوم بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر کے مختلف جگہوں پر ان کی لاشیں پھینک دیا کرتا تھا۔ ایسا ہی کچھ اس نے زینب کے ساتھ کیا۔ زینب کے والدین عمرے کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب روانہ ہوئے تو زینب انہیں چھوڑنے بھی گئی تاہم والدین کے بعد اس کی ذمہ داری اس کی خالہ جو کہ ان کے گھر کے قریب رہتی تھیں ان کے سپرد کی گئیں۔ زینب سپارہ پڑھنے کیلئے گھر سے دیگر بچوں کے ہمراہ نکلی تو درندہ عمران جو کہ اس کا پڑوسی تھا جس کو معلوم تھا کہ زینب کے والدین جا چکے ہیں اور پندرہ دن سے زینب اپنے والدین سے نہیں ملی تو اس نے ننھی زینب کو ورغلاتے ہوئے اسے اس کے والدین سے ملانے کا جھانسہ دیا اور لیکر چلا گیا۔ عمران نے زینب کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد پکڑے جانے کے خوف سے اسے قتل کر دیا اور اس کی لاش کو دو دن تک اپنے گھر چھپائے رکھا اور اس دوران اس کے گھر والوں کے ساتھ مل کر زینب کو ڈھونڈنے کا ڈرامہ کرتا رہا،

بعد ازاں اس نے موقع دیکھتے ہوئے زینب کی لاش کو کچرے کے ڈھیر میں پھینک دیا جہاں سے معصوم پری کی لاش برآمد کر لی گئی۔ اس سارے معاملے میں ارباب اختیار کی بے حسی اور اپنی ذمہ داری سے غفلت بھی سامنے آئی اور متعلقہ اداروں کی غیر ذمہ داری بھی بے نقاب ہوئی۔ اگر عمران کے اعترافی بیان کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ فحش فلمیں اور جسم فروشی کے اڈے اس کے

گھنائونے اور مکروہ جرائم کی وجہ بنے جو کہ آج بھی نہ صرف قصور ہی نہیں ملک بھر میں موجود ہیں۔ فحش فلموں کے مراکز بھی موجود ہیں اور یہ باآسانی انٹرنیٹ کے ذریعے بھی دستیاب ہیں اور اگر عمران کے کیس کو سامنے رکھا جائے تو یہ بات انتہائی خوفناک ہو جاتی ہے کہ نہ جانے یہ فحش فلمیں اور قحبہ خانے کتنے عمران پیدا کر چکی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس سمیت تمام متعلقہ ادارے جن میں پی ٹی اے قابل ذکر ہے اس قسم کی غیر اخلاقی فلموں کی بیخ کنی اور سائٹس کو فوری طور پر بند کرنے کیلئے مہم شروع کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ


شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…