قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات سے قبل پولیس افسران کا تبادلہ کون سے الیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی ہے؟ کنور دلشاد کا انکشاف

  جمعرات‬‮ 11 اکتوبر‬‮ 2018  |  21:10

اسلام آباد(آ ئی این پی)وفاقی سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان و چئیر مین نیشنل ڈیمو کریٹک فانڈیشن کنور محمد دلشاد نے کہا ہے کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات سے قبل پولیس افسران کا تبادلہ الیکشن ایکٹ 2017 سے انحراف ہے، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات آئین کے آرٹیکل 223 کا تسلسل ہے ان کو جو ضمنی انتخابات کے دائرہ کار میں نہیں آتے، انتخابات سے پہلے پولیس افسران و دیگر اداروں میں تبادلے کرنا حقیقی معنوں میں الیکشن ایکٹ 2017 کی خلاف ورزی ہے اور الیکشن کمیشن تبادلے کرنے والی اتھارٹی کے خلاف آئین کے آرٹیکل 204 کے

تحت کارائی کا مجاز ہے۔کنور دلشاد کا مزید کہنا ہے کہ انتخابات سے چار دن قبل انسپکٹر جنرل پنجاب رائے محمد طاہر خان کا تبادلہ اور ان کی جگہ امجد جاوید سلیمی کی تعیناتی سے حکومت نے انتظامی مسائل کا پنڈورا باکس کھول لیا ہے۔ اور ماضی میں سپریم کورٹ آف پاکستان ہدایت دے چکی ہے کہ قانون کے مطابق کسی عہدے پر تعیناتی کی مدت مقرر کر دی جائے۔ انسپکٹر جنرل پنجاب کی تبدیلی قانون سے نا بلدی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غالبا 2012 میں بھارت میں قومی انتخابات کے بعد بھارتی آرمی چیف کی تقرری سے پہلے من وفاقی سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان و چئیر مین نیشنل ڈیمو کریٹک فانڈیشن کنور محمد دلشاد نے کہا ہے کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات سے قبل پولیس افسران کا تبادلہ الیکشن ایکٹ 2017 سے انحراف ہے، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات آئین کے آرٹیکل 223 کا تسلسل ہے ان کو جو ضمنی انتخابات کے دائرہ کار میں نہیں آتے، انتخابات سے پہلے پولیس افسران و دیگر اداروں میں تبادلے کرنا حقیقی معنوں میں الیکشن ایکٹ 2017 کی خلاف ورزی ہے موہن سنگھ نے الیکشن کمیشن آف انڈیا سے باقاعدہ تحریری طور پر اجازت لی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں