ہفتہ‬‮ ، 31 جنوری‬‮ 2026 

ہر وزیراعظم ملکی معیشت کی خرابی کا ذمہ دار پہلے وزیراعظم کو قرار دیتا ہے پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان نے کس پر الزام لگایا ہو گا؟ معروف صحافی نے ایسی بات کہہ دی کہ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائینگے

datetime 11  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)معروف کالم نگار بلال غوری اپنے کالم میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں جب بھی کوئی نئی حکومت آتی ہے تو خودداری اور خود انحصاری کا نعرہ مستانہ بلند کرتے ہوئے کشکول توڑنے کو اپنا فرض منصبی سمجھا جاتا ہے۔ سادہ لوح عوام فرط جذبات سے زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں۔ ان نعروں کی گرد بیٹھتے ہی نئی حقیقت منکشف ہوتی ہے

تو لوگ نیا کشکول دیکھ کر ٹھٹھک جاتے ہیں۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کشکول توڑنے کا مقصد بھیک مانگنے کی روش ترک کرنا ہرگز نہیں تھا بلکہ بڑھتی ہوئی معاشی ضروریات کے تحت پرانا کشکول چھوٹا پڑ گیا تھا اس لئے اسے توڑ کر نیا کشکول تیار کیا گیا ہے۔ اگلا مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ نوزائیدہ حکومت تمام تر خرابیوں اور برائیوں کا ملبہ گزشتہ حکومت پر ڈال دیتی ہے اور قوم کو نہایت درد مندی سے بتایا جاتا ہے کہ قومی خزانہ خالی ہے۔ ٹرک ڈرائیوروں کی طرح ملک کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے والے بھی سب سے پہلے یہ جملہ تحریر کرواتے ہیں ’’چور دے پترا ٹول باکس خالی اے‘‘ پیپلز پارٹی کی حکومت پانچ سال یہ بتاتی رہی کہ وہ پرویز مشرف کا ڈالا ہوا گند صاف کر رہی ہے، مسلم لیگ (ن) کی حکومت یہ باور کرواتی رہی کہ پیپلز پارٹی کی غلطیوں اور کوتاہیوں کا ازالہ کیا جا رہا ہے اور اب تحریک انصاف کی حکومت بھینسیں بیچ کر ملک چلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ گاہے خیال آتا ہے کہ جب لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیراعظم بنے تو انہوں نے ملک کو درپیش صورتحال کا ذمہ دار کسے قرار دیا ہو گا؟ ان سے پہلے تو پاکستان کا وجود ہی نہ تھا، عین ممکن ہے وہ لارڈ مائونٹ بیٹن اور برطانوی استعمار کو برا بھلا کہہ کر وقت گزار لیتے ہوں۔ بہرحال یہ ہمارا قومی طریقہ واردات تو تھا ہی مگر ہمارے ہر دلعزیز کپتان نے اس واردات کا بھی ایک ایسا نیا انداز متعارف کروایا ہے جس پر سب عش عش کر اٹھے ہیں۔

موضوعات:



کالم



اصفہان میں دو دن


کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…