جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

ہر وزیراعظم ملکی معیشت کی خرابی کا ذمہ دار پہلے وزیراعظم کو قرار دیتا ہے پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان نے کس پر الزام لگایا ہو گا؟ معروف صحافی نے ایسی بات کہہ دی کہ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائینگے

datetime 11  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)معروف کالم نگار بلال غوری اپنے کالم میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں جب بھی کوئی نئی حکومت آتی ہے تو خودداری اور خود انحصاری کا نعرہ مستانہ بلند کرتے ہوئے کشکول توڑنے کو اپنا فرض منصبی سمجھا جاتا ہے۔ سادہ لوح عوام فرط جذبات سے زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں۔ ان نعروں کی گرد بیٹھتے ہی نئی حقیقت منکشف ہوتی ہے

تو لوگ نیا کشکول دیکھ کر ٹھٹھک جاتے ہیں۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کشکول توڑنے کا مقصد بھیک مانگنے کی روش ترک کرنا ہرگز نہیں تھا بلکہ بڑھتی ہوئی معاشی ضروریات کے تحت پرانا کشکول چھوٹا پڑ گیا تھا اس لئے اسے توڑ کر نیا کشکول تیار کیا گیا ہے۔ اگلا مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ نوزائیدہ حکومت تمام تر خرابیوں اور برائیوں کا ملبہ گزشتہ حکومت پر ڈال دیتی ہے اور قوم کو نہایت درد مندی سے بتایا جاتا ہے کہ قومی خزانہ خالی ہے۔ ٹرک ڈرائیوروں کی طرح ملک کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے والے بھی سب سے پہلے یہ جملہ تحریر کرواتے ہیں ’’چور دے پترا ٹول باکس خالی اے‘‘ پیپلز پارٹی کی حکومت پانچ سال یہ بتاتی رہی کہ وہ پرویز مشرف کا ڈالا ہوا گند صاف کر رہی ہے، مسلم لیگ (ن) کی حکومت یہ باور کرواتی رہی کہ پیپلز پارٹی کی غلطیوں اور کوتاہیوں کا ازالہ کیا جا رہا ہے اور اب تحریک انصاف کی حکومت بھینسیں بیچ کر ملک چلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ گاہے خیال آتا ہے کہ جب لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیراعظم بنے تو انہوں نے ملک کو درپیش صورتحال کا ذمہ دار کسے قرار دیا ہو گا؟ ان سے پہلے تو پاکستان کا وجود ہی نہ تھا، عین ممکن ہے وہ لارڈ مائونٹ بیٹن اور برطانوی استعمار کو برا بھلا کہہ کر وقت گزار لیتے ہوں۔ بہرحال یہ ہمارا قومی طریقہ واردات تو تھا ہی مگر ہمارے ہر دلعزیز کپتان نے اس واردات کا بھی ایک ایسا نیا انداز متعارف کروایا ہے جس پر سب عش عش کر اٹھے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…