پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

بی این پی مینگل کی چھٹی، تحریک انصاف نےلاپتہ افراد کا مسئلہ اٹھانے والی اپنی اتحادی جماعت سے متعلق کیا پلان بنا رکھا ہے؟حامد میر کےتہلکہ خیز انکشاف

datetime 11  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ملک کے معروف صحافی ، تجزیہ کار حامد میر اپنے آج کے کالم میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ قومی یکجہتی اسی صورت میں آسکتی ہے جب وزیراعظم صاحب اپوزیشن کے لہجے میں بولنا چھوڑیں گے۔ وہ کہتے ہیں ہم ڈاکو کو ڈاکو نہ کہیں تو پھر کیا کہیں؟ سوال یہ ہے کہ اگر ماضی کے حکمران واقعی ڈاکو تھے تو ان کے ساتھی کیا تھے؟ اگر ان کے ساتھی آپ سے آملیں

تو ہم انہیں کیا کہیں؟ کیا ان کیلئے ’’سابق ڈاکو‘‘ کا لفظ مناسب رہے گا؟ گزارش یہ ہے کہ عمران خان اپنی کابینہ پر نگاہ دوڑائیں۔ یہ ویسی ہی کابینہ ہے جیسی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی کابینہ ہوا کرتی تھی۔ اس کابینہ کا وزیراعظم ماضی کی حکومتوں پر کوئی اخلاقی برتری نہیں رکھتا۔کل تحریک انصاف کے ایک وزیر نے مجھ سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہر دوسرے دن ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہماری حکومت صرف پانچ ووٹوں کی اکثریت سے قائم ہے یہ پانچ ووٹ بی این پی مینگل کے ہیں اور اگر لاپتا افراد کا مسئلہ حل نہ ہوا تو بی این پی مینگل حکومت سے نکل جائے گی۔ وزیر صاحب نے کہا کہ 14اکتوبر کو ہم اختر مینگل کے دبائو سے بھی نکل جائیں گے۔ قومی اسمبلی کی گیارہ نشستوں پر ضمنی الیکشن ہورہا ہے اور ہم آسانی سے آٹھ یا نو نشستیں جیت جائیں گے پھر آپ ہمیں اپنے لاپتا افراد یاد نہ کرائیے گا۔ میں نے بڑے احترام سے وزیر صاحب کو کہا کہ لاپتا افراد کیلئے میں نے نہیں عمران خان نے سب سے پہلے آواز اٹھائی تھی میں تو آپ کو صرف آپ کے پرانے وعدے یاد دلاتا ہوں۔وزیر صاحب نے کہا ہمیں صرف چھ مہینے دیدیں۔ ہم آپ کو مایوس نہیں کریں گے۔ میں نے کہا آپ چھ مہینے لے لیں لیکن یہ تو بتائیں کہ 14اکتوبر کو ضمنی الیکشن میں آپ نے جن صاحبان کو ٹکٹ دیئے ہیں کیا وہ نئے پاکستان کے نمائندے ہیں؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…