جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

امریکہ دو سال سے مسلسل پاکستان کیخلاف نقطہ چینی کر رہا تھا،ہم آسمان سے تارے توڑ کر نہیں لا سکتے،پاکستان نے امریکہ کو دوٹوک جواب دیدیا

datetime 6  اکتوبر‬‮  2018 |

ملتان (این این آئی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کو افغانستان کے تناظر یا بھارتی نظرئیے سے دیکھنا مناسب نہیں ٗہم آسمان سے تارے توڑ کر نہیں لا سکتے ٗ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف ہونا چاہیے، ہماری قربانیوں کا اعتراف ہوگا تو ہمارے حوصلوں میں بھی اضافہ ہوگا ٗہم اپنی خارجہ پالیسی میں ہمیشہ ملکی مفاد کو مقدم رکھیں گے ٗدورہ امریکا مالی امداد کے حوالے سے بالکل نہیں تھا ٗ

شہباز شریف کے کیس میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے ٗ نیب اور عدلیہ آزاد اور خود مختار ہیں ٗ ہمیں فیصلوں کا احترام کر ناچاہیے ۔ ہفتہ کو شاہ محمود قریشی نے امریکا کے دورے کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم آسمان سے تارے توڑ کر نہیں لا سکتے تاہم ہماری کوشش تھی کہ قومی نظریے کی حمایت کریں۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں تقریرکسی جماعت یاحکومت کی نہیں بلکہ پاکستانیوں کی جانب سے کی تھی، اپنی تقریر میں واضح کیا کہ پاکستان کو افغانستان کے تناظر اور بھارتی نظریے سے دیکھنا مناسب نہیں۔انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف ہونا چاہیے، ہماری قربانیوں کا اعتراف ہوگا تو ہمارے حوصلوں میں بھی اضافہ ہوگا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ حکومت کو تسلسل کے ساتھ نئے مواقع کی تلاش میں رہنا چاہیے اور ہماری کوشش ہے کہ نئے مواقع کا ملکی مفاد میں استعمال ہو۔انہوں نے بتایا کہ ہم اپنی خارجہ پالیسی میں ہمیشہ ملکی مفاد کو مقدم رکھیں گے۔ امریکہ دو سال سے مسلسل پاکستان کیخلاف نقطہ چینی کر رہا تھا ٗپومیپو کیساتھ ملاقات میں واضح الفاظ میں ایشوز پر بات کی، پومپیو کیساتھ ہونے والی ملاقات سے مطمئن ہوں ٗمائیک پومپیو کیساتھ ملاقات کے بعد امریکا کے مؤقف میں تبدیلی آئی، امریکا میں پاکستان کا مؤقف بڑے موثر انداز میں پیش کیا۔ایک سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مسلم امہ میں اتفاق نہیں ہے،

ان کی وجوہات کی تفصیل میں جانا نامنساب ہے، وقت اب پہلے سا نہیں ہے ٗمسلم اْمہ کو اس وقت یکسوئی اور یکجہتی کی ضرورت ہے ہم متحد ہوں گے رو ہماری آواز سنی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پاک امریکا تعلقات سات دہائیوں پر مشتمل ہیں، دورہ امریکا مالی امداد کے حوالے سے بالکل نہیں تھا۔انہوں نے کہاکہ امریکا نے امداد نہیں دی تھی بلکہ یہ ان کے دیے ہوئے پیسے ہماری بقا کی جنگ میں ہونے والے نقصان کی ادائیگی تھی۔

گزشتہ روز پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی گرفتاری کے حوالے سے سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہاکہ شہباز شریف کی گرفتاری عدالتی عمل ہے ٗنیب نے تحقیق کے بعد گرفتاری کا فیصلہ کیا، نیب خودمختار ادارہ ہے ٗ شہباز شریف کیخلاف کیس تحریک انصاف نے نہیں بنایا ٗہمیں عدالتوں کا احترام کرنا چاہیے، گرفتاری سے پی ٹی آئی کا کوئی کریڈٹ نہیں، نہ کسی کو کریڈٹ دے سکتا ہوں نہ لے سکتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کو قانونی جنگ لڑنے کا حق ہے۔بھارت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ مشرقی سرحد کی طرف سے مسلسل چبن مشکلات پیدا کرتی ہے، پاکستان نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا۔ بھارت لیت ولعل سے کام لے رہا ہے، ملاقات طے کی بعد میں پیچھے ہٹ گیا ٗپاکستان نے نیک نیتی سے کرتار پورہ کھولنے کی تجویز دی، پاکستان کی اب بھی آفر قائم ہے۔صحافی نے شاہ محمود قریشی سے سوال کیا کہ کیا آپ کی بھارتی وزیر خارجہ سے ملاقات نہیں ہوئی؟ تو شاہ محمود قریشی نے مسکرا کر جواب دیا کہ آنکھوں ہی آنکھوں میں آمنا سامنا ہوا، نہ میں نے ان کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا اور نہ وہ میرے سپنوں میں آتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…