بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

شریف برادران کا ایک اور بڑا سکینڈل سامنے آگیا شہباز شریف نے اپنی شوگر ملز پر سرکاری خزانہ کیسے لٹاتے رہے، جانئے ہوشربا تفصیلات

datetime 28  ستمبر‬‮  2018 |

فیصل آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مشکلات اور مقدمات میں گھرے شریف خاندان کا ایک اور کرپشن سکینڈل سامنے آگیا، شہباز شریف کی ملکیتی رمضان شوگر ملز سے آلودہ پانی کی نکاسی کیلئے ملز سے سیم نہر تک 25کلومیٹر طویل نالے کی تعمیر سرکاری خرچے سے کئے جانے کا انکشاف، نیب نے تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق نیب نے شہباز شریف کی ملکیتی رمضان شوگر ملز

سے آلودہ پانی کی نکاسی کیلئے بنائے گئے ملز سے سیم نہر تک 25کلومیٹر طویل نالے کی تعمیر سرکاری خرچ سے کئے جانے کے معاملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ تازہ سکینڈل میں انکشاف سامنے ا ٓیا ہے کہ چنیوٹ میں قائم کی گئی رمضان شوگر ملزم کیلئے بنائے گئے اس نالے کی تعمیر مبینہ طور پر بلدیہ چنیوٹ کے فنڈز سے 60کروڑ روپے کی رقم خرچ کر کے کی گئی ہے۔ نیب کی ٹیم معاملے کی تحقیقات کیلئے چنیوٹ پہنچ چکی ہے اور اس نے ڈرین نالے کامعائنہ کرنے کے ساتھ بلدیہ چنیوٹ کا تمام ریکارڈ قبضے میں لے لیا ہے۔ ریکارڈ سے حاصل معلومات کے مطابق 2015ء میں چنیوٹ کی ضلعی انتظامیہ نے رمضان شوگر ملز جامعہ آباد سے بھٹو کالونی سیم نہر تک 25 کلو میٹر طویل پختہ نالہ تعمیر کیا، ریکارڈ میں نالے کی تعمیر کا مقصد اطراف کے دیہاتوں کے سیوریج کے پانی کا نکاس ظاہر کیا گیا لیکن عملی طورپر یہ نالہ رمضان شوگر ملز کے آلودہ پانی کو سیم نہر میں ڈالنے کے لئے بنایا گیا تھا۔چنیوٹ کی انتظامیہ نے اس وقت نالے کی تعمیر پر بلدیہ کے ترقیاتی فنڈز سے 60 کروڑ روپے خرچ کئے جنہیں بعد میں کم ظاہر کرتے ہوئے 60سے 32 کروڑ بنا دیا گیا ۔جبکہ رمضان شوگر ملز سے سیم نہر تک راستے میں آنے والے کسی ایک بھی گاؤں کا سیوریج کا پانی اس نالے میں نہیں ڈالا گیا۔ نیب ٹیم نے اس حوالے سے ایک رکن صوبائی اسمبلی سے بھی پوچھ گچھ کی ہے جس نے نیب ٹیم کے سامنے اعتراف کرتے ہوئے بتایا ہےکہ اس وقت کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کی جانب سے اس کام کیلئے بہت زیادہ دبائو تھا ۔ نیب نے مزید پوچھ گچھ کیلئے مذکورہ رکن صوبائی اسمبلی کو پیر کے روز نیب لاہور آفس طلب کر لیا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…