بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ،آئندہ چھ مہینوں میں کیا ہوسکتاہے؟،اسٹیٹ بینک نے تشویشناک پیش گوئی کردی

datetime 27  ستمبر‬‮  2018 |

کراچی (این این آئی) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ بیرونی شعبے کا دباو، مالیاتی شعبے کی کمزوریاں، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاو آئندہ چھ مہینوں میں مالی استحکام پر خاصا اثر ڈال سکتا ہے،رواں سال2018 کی پہلی ششماہی کے دوران غیر فعال قرضوں اور مجموعی قرضوں کا تناسب کم ہو کر 7.9 فیصد تک پہنچ گیا ہے جو 2008ء کی پہلی ششماہی کے بعد سے اس کی کم ترین سطح ہے۔تاہم بینکوں کی بعد از ٹیکس آمدنی (year to date) میں 14.7 فیصد کمی آئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک نے سال 2018ء کی پہلی ششماہی کے لیے بینکاری شعبے کا پہلا ششماہی کارکردگی جائزہ جاری کر دیا ہے۔ ششماہی کارکردگی جائزے میں بینکاری شعبے کی کارکردگی اور مضبوطی کے جامع جائزے کے ساتھ مالی شعبے کو درپیش اہم مسائل کو نمایاں کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق بینکاری شعبے نے کافی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ سال 2018ء کی پہلی ششماہی میں بینکاری شعبے کی اثاثہ جاتی بنیاد (asset base) میں 4.7 فیصد توسیع (9.7 فیصد سال بسال) ہوئی۔ یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ اثاثوں کی نمو میں نجی شعبے کے قرضوں نے اہم کردار ادا کیا ہے، جن میں چینی، توانائی اور سیمنٹ کے شعبوں کے ساتھ افراد (یعنی sole proprietorships) کو اہم قرض گیروں (borrowers) کی حیثیت حاصل رہی۔ ڈپازٹس میں معمولی کمی ہوئی لیکن پھر بھی یہ بینکوں کے لیے فنڈز کا اہم ذریعہ رہے۔زیر تبصرہ ششماہی کے دوران شعبہ بینکاری کے مجموعی خاکہ خطر (risk profile) میں کفایت سرمایہ(capital adequacy) کی مضبوطی اور اثاثہ جاتی معیار بڑھنے سے بہتری آئی ہے۔ شرح کفایت سرمایہ (CAR) مزید بہتری کے بعد 15.9 فیصد تک پہنچ گیا جو 11.275 فیصد کی کم از کم مطلوبہ ضوابطی سطح سے کافی اوپر ہے۔ غیر فعال قرضوں اور مجموعی قرضوں کا تناسب کم ہو کر 7.9 فیصد تک پہنچ گیا ہے

جو 2008ء کی پہلی ششماہی کے بعد سے اس کی کم ترین سطح ہے۔تاہم بینکوں کی بعد از ٹیکس آمدنی (year to date) میں 14.7 فیصد کمی آئی ہے جس کی وجوہات میں غیر سودی آمدنی میں کمی، تموین (provision) کے یکبارگی اخراجات اور بلند انتظامی لاگت ہیں۔ رپورٹ میں 2018ء کی پہلی ششماہی میں معاشی و مالی حالات کے باارے میں توقعات کو بھی اجاگر کیا گیا ہے اسٹیٹ بینک کے نظمی خطرے کے دوسرے سروے سے پتہ چلتا ہے کہ بیرونی شعبے کا دباو، مالیاتی شعبے کی کمزوریاں، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاو ممکنہ طور پر آئندہ چھ مہینوں میں مالی استحکام پر خاصا اثر ڈال سکتا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…