بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

گوادر میں اہم منصوبے بند کرنے اورچینی وزیرخارجہ کے پاکستان میں ’’بے رخی‘‘ سے استقبال کا تنازعہ بڑھ گیا،حکومت کو شدید تنقید کا سامنا

datetime 26  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی) چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور سینیٹرمشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ جس طرح قوم کو پاکستان کے نیوکلیئر طاقت ،مسئلہ کشمیراورجمہوریت پر متفق ہے اسی طرح سی پیک پر بھی متفق ہے،چترال کو چارممالک کے سنگم پر ہونے کی وجہ سے سی پیک میں شامل کیا گیا تھا،موجودہ حکومت نے پی ایس ڈی پی میں کٹ لگانے کے ساتھ ساتھ سی پیک کے بہت سے منصوبوں کو بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا ،گوادر میں سی پیک کے تحت چلنے والے

آٹھ منصوبوں کو بند کیا گیا ہے، جن میں پاک چائنا انسٹیٹیوٹ اور گوادر ہسپتال کی اپ گریڈیشن بھی شامل ہیں،قومی اسمبلی میں وزیر خزانہ نے واضح طور پر کہا تھا کہ سی پیک اور ایچ ای سی کے تحت جاری منصوبوں کو بند نہیں کیا جائے گا مگر پلاننگ کمیشن کی طرف سے سینیٹ کمیٹی کو دئیے گئے بریفنگ میں سی پیک کے چار منصوبوں میں کٹ لگانے کا فیصل سامنے آیا۔بدھ کو سینیٹ میں اظہارخیال کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ مارچ 2013میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے گوادر کے بارے میں صحیح فیصلہ کیا، جس کا کریڈٹ سابق صدر آصف علی زرداری کو جاتا ہے،موجود حکومت سی پیک کو متنازعہ بنارہی ہے،چترال کو چار ممالک تاجکستان، ازبکستان، افغانستان اور پاکستان کے سنگم پر ہونے کی وجہ سے سی پیک میں شامل کیا گیا تھا مگر موجودہ حکومت نے اس کو نکال دیاہے۔ مشاہدحسین سید نے کہا کہ سی پیک پر پوری قوم اورتمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہیں،اس کوہرگزمتنازعہ بننے نہیں دیں گے،یہ کسی ایک حکومت کا معاملہ نہیں،حکومت بتائیں کن وجوہات کی بناپرسی پیک کے منصوبوں کو بند کررہی ہے،اُمید ہے کہ وزیراعظم کے نومبرمیں چین کے دورے کے دوران منصوبوں کے حوالے سے واضح ہو جائیں گے۔پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹرشیری رحمن نے کہا کہ چینی وزیر خارجہ کا جس بے رخی سے استقبال کیا گیا اس کو چین نے نوٹس کیا ہے، حکومت نییہ حماقت کیوں کی پتہ نہیں،وزیرخارجہ استقبال کرتے تو چھوٹا نہیں ہوتا، ایک چھوٹے لیول کیاافسرکے ذریعے استقبال کرکے دیرینہ دوست کو کیا پیغام دیا،کیا آئندہ جوبھی باہر سے آئے گا اسی طرح کا استقبال کیاجائیگا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…