اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

پاکستان کے دریاؤں میں ہر سال 145 ملین ایکڑ پانی آتا ہے ،جانتے ہیں اس میں سے صرف کتنے ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کیا جا تا ہے اور باقی سمندر کی نذر ہوجاتاہے؟ انتہائی شرمناک انکشافات

datetime 8  جولائی  2018 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان کے دریاؤں میں ہر سال 145 ملین ایکڑ پانی آتا ہے جس میں سے صرف 14 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے جبکہ بقیہ پانی سمندر کی نذر ہو جاتا ہے۔ آبی وسائل کے تحقیق کار نعیم سلہری نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ دریاؤں کا پانی ضائع ہونے سے پاکستانی معیشت کو سالانہ 25 ارب روپے سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پانی کو ذخیرہ کرنے کیلئے چھوٹے بڑے ڈیمز کی تعمیر سے نہ صرف نقصانات پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ اس سے سستی بجلی پیدا کرکے

مستقبل کی توانائی کی ضروریات بھی پوری کی جا سکتی ہیں۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق 2010ء سے 2040ء کے دوران دنیا میں بجلی کے استعمال میں 56 فیصد اضافہ متوقع ہے جس کے تناظر میں آبی وسائل سے سستی بجلی پیدا کرنے کے حوالے سے جامع اقدامات کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں عالمی میعار کے 150 درمیانے اور بڑے ڈیمز کے باوجود سالانہ 130 ملین ایکڑ فٹ پانی ضائع ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…