ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

سیاسی جماعتوں کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں براہ راست نشستوں پر کتنے فیصد ٹکٹ خواتین امیدواروں کو دینا لازمی ہوں گے، الیکشن کمیشن نے اعلان کردیا

datetime 7  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)انتخابی قانون 2017ء کے تحت عام انتخابات 2018ء میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں براہ راست نشستوں پر پانچ فیصد ٹکٹ خواتین امیدواروں کو دینالازمی ہو ں گے، قومی اسمبلی میں 272 نشستوں پر کم از کم

13 ٹکٹ خواتین کو دینے ہونگے۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق انتخابی قانون 2017ء میں براہ راست نشستوں پر 5فیصد ٹکٹ خواتین کو دینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں پاکستان پیپلزپارٹی کے پاس سندھ سے براہ راست انتخاب میں حصہ لینے والی خواتین کی تعداد سب سے زیادہ ہے جن میں فریال تالپور، عذرا فضل، شازیہ مری، نفیسہ شاہ اور فہمیدہ مرزاگزشتہ انتخابات 2013ء میں براہ راست نشستوں پر منتخب ہو کر قومی اسمبلی میں آئی تھیں جبکہ فہمیدہ مرزا کی پیپلز پارٹی سے علیحدگی کے بعد بقیہ خواتین عام انتخابات 2018ء میں بھی پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر براہ راست حصہ لیں گی۔ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے 2013ء کے عام انتخابات میں سائرہ افضل تارڑ، غلام بی بی بھروانہ ، شذرہ منصب علی خان کھرل(ضمنی انتخاب)، براہ راست نشستوں پر کامیاب ہو کر ایوان میں آئیں ان میں سے غلام بی بی بھروانہ تحریک انصاف میں شامل ہو چکی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی رہنما تہمینہ دولتانہ بھی براہ راست نشست پر امیدوار تھیں تاہم وہ کامیاب نہ ہو سکیں۔ اب عام انتخابات کے لئے لازمی ہے کہ کم سے کم 13 ٹکٹ قومی اسمبلی کے لئے براہ راست خواتین کو دیئے جائیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…