اکوڑہ خٹک (این این آئی) جمعیۃ علماء اسلام کے سربراہ دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ کندوز مدرسہ کے نہتے حفاظ اور طلبا پر وحشیانہ حملہ کھلم کھلا دہشت گردی ہے، ہزاروں علماء طلبا اور عوام الناس پر حملہ تعلیم پر حملہ ہے ،براہ نام انسانی حقوق کے علمبرداروں کو یہ وحشت نظر نہیں آرہی ہے جو کہ چپ سادھے بیٹھے ہوئے ہیں ،کندوز مدرسہ پہ حملہ اور
اسی طرح گزشتہ روز صوبہ فراہ کے مدرسے کے حفاظ پر وحشیانہ حملہ صدر ٹرمپ کے اسٹریٹجگ پالیسی اور اسلام دشمنی کی عکاس ہے، اور ہم روز اول سے صلیبی دہشت گردی کے مذموم مقاصد سے امت مسلمہ کو آگاہ کرتے رہے جوکہ نہتے عوام او ردینی مدارس پر حملوں کی صورت میں ظاہر ہورہے ہیں، مولانا سمیع الحق نے کہاکہ ہم قندوز مدرسہ پر حملے اور طلبہ کی شہادت پرامریکی اور افغان حکومت سے پرزور مذمت کرتے ہیں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں اور اسلامی کانفرنس اوآئی سی سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس ظالمانہ اقدام کے منصفانہ احتساب کریں، مولانا سمیع الحق نے کہاکہ ان جیسے حملے دنیا کے امن کو سبوتاژ کرنے کیلئے کئے جارہے ہیں اور عالمی دہشت گرد امریکہ کے یہی مقاصد ہیں کہ اسلامی دنیا کے امن کو تباہ کرکے خانہ جنگی کی صورتحال پیدا کی جائے، مولانا نے کہاکہ ایک ملالہ پر واویلا کرنے والے موم بتی مافیا ،لبرلز اور سیکولرز انسانی حقوق کے دعویداروں کو کندوز اور فراہ کے سینکڑوں ملالاؤں اور معصوم بچوں کے قتل عام پر کیوں خاموش ہے، اور خواب غفلت میں کیوں سورہے ہیں ، مولانا سمیع الحق نے جمعہ ۶ اپریل کو ملک بھر میں یوم مذمت اورپرامن احتجاج او رمظاہروں کی اپیل کی ہے، اور تمام ائمہ مساجد سے جمعے کے اپنے خطبات میں یہود ونصاریٰ کے اسلام دشمنی پر اور شہدائے کندوز سے تعزیت پر خطبات فرمائیں-



















































