ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

’’سب سے بڑی حرام خوری مولانا فضل الرحمان نے کی ہے، اسے شرم بھی نہیں آتی، کوئی حد ہوتی ہے حرام خوری کی‘‘۔ اوریا مقبول جان نے مولانا فضل الرحمان پر چڑھائی کر دی، سنئے مولانا فضل الرحمان کی ’’حرام خوری‘‘ کی کہانی اوریا مقبول جان سے

datetime 4  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی کی سفاکانہ ریاستی دہشت گردی کی وجہ سے بیس سے زائد کشمیری شہید اور تین سو سے زائد زخمی ہو چکے ہیں جن میں متعدد خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، سفاکیت اور بربریت کی انتہا دیکھئے کہ شہید ہونے والے کشمیریوں کے جنازے میں شریک لوگوں پر بھارتی فوج نے فائرنگ کر دی،

جس سے مزید شہادتیں ہوئیں، یہاں تک کے فائرنگ میں زخمی ہونے والوں کی ایمبولینسز کو راستے میں روکا گیا اور کئی ایمبولینسز بروقت ہسپتال نہ پہنچنے کی وجہ سے بھی ہلاکتیں ہوئیں۔ آسیہ اندرابی نے حکومت پاکستان اور پاکستانیوں سے گزارش کی ہے کہ ایک دن کا یوم سیاہ منایا جائے تاکہ یہ پیغام پوری دنیا تک پہنچ جائے، ایک نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے سینئر صحافی اوریا مقبول جان نے کہا کہ پوری دنیا میں جو سین بنتا چلا جا رہا ہے وہ اس سین سے اب کشمیر کو علیحدہ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا، غزہ، غوطہ، بغداد کی صورتحال کو دیکھ لیں اور اب کشمیر کی صورتحال آ چکی ہے، آج سے بہت عرصہ پہلے کشمیر کے بارے میں یہ تصور رکھاجاتا تھا کہ یہ برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ مودی نے ہندو ووٹ بنک اکٹھاکرنے کے لیے پورے ہندوستان کے مسلمان اور اقلیتوں کے خلاف ایک خاص قسم کی مہم شروع کی ہے۔ اسی لیے آج رمیتکا کے پوتے کا بیان سامنے آیا ہے کہ بھارت کچھ عرصہ بعد شام بننے والا ہے جس کو شام بننے سے کوئی روک نہیں سکے گا۔ کابینہ کے اجلاس میں کہا گیا ہے کہ کشمیر کے حوالے سے وفود پوری دنیا کے مختلف ممالک میں بھیجے جائیں گے، سینئر صحافی نے کہا کہ اس حرام خوری کی جانب میں بعد میں آؤں گا، یہ بہت بڑی خرام خوری ہوئی ہے اور سب سے بڑی حرام خوری کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمان کی جانب سے ہوئی ہے، جنہیں تھوڑی سی شرم بھی نہیں آتی ہے۔ اس وقت انڈیا کو اپنے خطرات کا اندازہ ہے۔ سینئر صحافی نے کہا کہ جب سے فضل الرحمان کشمیر کمیٹی کے سربراہ بنے ہیں کشمیر کے حوالے سے صرف آٹھ میٹنگز ہوئی ہیں، فضل الرحمان سے جب پوچھا جائے تو وہ کہتے ہیں کہ آپ ملی یکجہتی کے خلاف سوال کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…