اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی کی سفاکانہ ریاستی دہشت گردی کی وجہ سے بیس سے زائد کشمیری شہید اور تین سو سے زائد زخمی ہو چکے ہیں جن میں متعدد خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، سفاکیت اور بربریت کی انتہا دیکھئے کہ شہید ہونے والے کشمیریوں کے جنازے میں شریک لوگوں پر بھارتی فوج نے فائرنگ کر دی،
جس سے مزید شہادتیں ہوئیں، یہاں تک کے فائرنگ میں زخمی ہونے والوں کی ایمبولینسز کو راستے میں روکا گیا اور کئی ایمبولینسز بروقت ہسپتال نہ پہنچنے کی وجہ سے بھی ہلاکتیں ہوئیں۔ آسیہ اندرابی نے حکومت پاکستان اور پاکستانیوں سے گزارش کی ہے کہ ایک دن کا یوم سیاہ منایا جائے تاکہ یہ پیغام پوری دنیا تک پہنچ جائے، ایک نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے سینئر صحافی اوریا مقبول جان نے کہا کہ پوری دنیا میں جو سین بنتا چلا جا رہا ہے وہ اس سین سے اب کشمیر کو علیحدہ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا، غزہ، غوطہ، بغداد کی صورتحال کو دیکھ لیں اور اب کشمیر کی صورتحال آ چکی ہے، آج سے بہت عرصہ پہلے کشمیر کے بارے میں یہ تصور رکھاجاتا تھا کہ یہ برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ مودی نے ہندو ووٹ بنک اکٹھاکرنے کے لیے پورے ہندوستان کے مسلمان اور اقلیتوں کے خلاف ایک خاص قسم کی مہم شروع کی ہے۔ اسی لیے آج رمیتکا کے پوتے کا بیان سامنے آیا ہے کہ بھارت کچھ عرصہ بعد شام بننے والا ہے جس کو شام بننے سے کوئی روک نہیں سکے گا۔ کابینہ کے اجلاس میں کہا گیا ہے کہ کشمیر کے حوالے سے وفود پوری دنیا کے مختلف ممالک میں بھیجے جائیں گے، سینئر صحافی نے کہا کہ اس حرام خوری کی جانب میں بعد میں آؤں گا، یہ بہت بڑی خرام خوری ہوئی ہے اور سب سے بڑی حرام خوری کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمان کی جانب سے ہوئی ہے، جنہیں تھوڑی سی شرم بھی نہیں آتی ہے۔ اس وقت انڈیا کو اپنے خطرات کا اندازہ ہے۔ سینئر صحافی نے کہا کہ جب سے فضل الرحمان کشمیر کمیٹی کے سربراہ بنے ہیں کشمیر کے حوالے سے صرف آٹھ میٹنگز ہوئی ہیں، فضل الرحمان سے جب پوچھا جائے تو وہ کہتے ہیں کہ آپ ملی یکجہتی کے خلاف سوال کر رہے ہیں۔



















































