اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

پانی کا بہاؤ145ملین ایکڑ فٹ ہے اور صرف کتنے فیصد پانی کو ذخیرہ کیاجارہاہے؟پاکستان پانی کی قلت کے حوالے سے دنیا میں کس نمبرپر پہنچ گیا؟چونکادینے والے انکشافات

datetime 7  مارچ‬‮  2018 |

لاہور(این این آئی) آبی ماہرین نے آنے والے سالوں میں پانی کی قلت پر اپنی شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانی ذخیرہ کرنے کیلئے بڑے ڈیمز بنانے کے ساتھ بھارت کو آبی جارحیت سے نہ روکا گیا تو انتہائی گھمبیر صورتحال پیدا ہو سکتی ہے ۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں

پانی کا بہاؤ 145ملین ایکڑ فٹ ہے جس میں سے صرف دس فیصد ذخیرہ کیا جارہا ہے ،پاکستان پانی کی قلت کے حوالے سے پندرہویں نمبر پر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 30سال سے کوئی بڑا ڈیم نہیں بنا جس کہ وجہ سے ہر سال بارشوں اور گلےئشئر کا پانی ضائع ہوجاتا ہے جس کہ وجہ سے ہمیں ہر سال 500ار ب روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تربیلا ، منگلا ڈیم اورچشمہ میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کم ہورہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ نئے ڈیمز بننے سے ہم پانی ذخیرہ کرسکتے ہیں جس سے بجلی کی پیدا وارمیں اضافہ ہوگا اور بجلی کے معاملے پر جو ظلم ہمارے ساتھ ہوا وہ ہماری نسلوں کے ساتھ نہیں ہوگا ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فاقہ کشی اختیار نہیں کرنی تو پانی ذخیرہ کرنے کیلئے ہمیں ڈیمز بنانا ہونگے ۔کالا باغ ڈیم پر 1980میں کام شروع ہوا اور پھر سیاسی وجوہات کی بناء پر اس پر کام بندکردیاگیا اگر کالا باغ ڈیم بنے گا تو اس میں سے نہریں نکلیں گی جس سے متعدد علاقوں کوفائدہ حاصل ہوگا ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیمز بنانے کے ساتھ ساتھ ہمیں بھارت کو اپنے دریاؤں کے پانی پر پر ڈیمز بنانے سے بھی روکنا ہوگا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…