اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

چیئرمین سینٹ کیلئے پیپلزپارٹی سے اتحاد مجبوری بن گیا، اتحاد کرینگے یا سیٹ مسلم لیگ ن کو گفٹ کر دینگے، عمران خان کی زندگی کا سب سے مشکل وقت، فیصلے کی گھڑی آگئی، کارکنوں کی نظریں کپتان پر جم گئیں

datetime 7  مارچ‬‮  2018 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)چیئرمین سینٹ کی سیٹ کا معاملہ، عمران خان امتحان میں پڑ گئے، پیپلزپارٹی کیساتھ اتحاد نہ کرنے کی صورت میں چیئرمین سینٹ کی سیٹ ن لیگ کو گفٹ کرنے کے مترادف ہو گا، معروف تجزیہ کار شہزاد چوہدری نے چیئرمین سینٹ کی سیٹ کیلئے سیاسی جماعتوں کے جوڑ توڑ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا بہت کم ہی دیکھنے میں آیا ہے کہ اصول اور سیاست آپس

میں مل جائیں اور اب عمران خان کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ اپنے اصولوں پر قائم رہیں گے یا سیاست کرنا چاہئیں گے۔کیونکہ سیاست کا مقصد طاقت کا حصول ہوتا ہے۔اور طاقت تب آتی ہے جب آپ حکومت میں آتے ہیں یا پھرچیئرمین سینیٹ بن جاتے ہیں۔ اگر عمران خان کسی کے ساتھ اتحاد کئے بغیر کسی سونامی کا انتظار کریں گے تو اس میں بہت وقت لگے گا۔شہزاد چوہدری کا کہنا تھا کہ عمران خان کے پاس دو راستے ہیں۔یا تو وہ اپوزیشن میں بیٹھیں گے لیکن اگر وہ سینیٹ انتخابات میں کوئی رکاوٹ ڈالیں گے توچیئرمین سینیٹ کی سیٹ وہ اپنے ہاتھوں سے مسلم لیگ ن کو گفٹ کریں گے۔شہزاد چوہدری کا کہنا تھا کہ عمران خان کو چئیرمین سینیٹ کے معاملے میں آصف علی زرادری کے ساتھ اتحاد کرنا پڑے گا۔اور اگر عمران خان نے ایسا نہ کیا تو وہ اپنے ہاتھوں سے ساری پاور مسلم لیگ ن کے حوالے کر دیں گے۔واضح رہے کہ تحریک انصاف کے سینیٹرز کی تعداد 12، پیپلزپارٹی 20جبکہ ن لیگ اپنی اتحاد جماعتوں کے ساتھ 49سینیٹرز کیساتھ چیئرمین سینٹ کی سیٹ کیلئے میدان میں موجود ہے۔ فاٹا اور بلوچستان کے آزاد سینیٹرز کی حمایت حاصل ہونے پر اگر ایم کیو ایم پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کی حمایت کا اعلان کر دیتی ہے تو ن لیگ مشکل میں پڑ سکتی ہے۔ اس وقت چیئرمین سینٹ کیلئے جوڑ توڑ جاری ہے اور آزاد سینیٹرز کی اہمیت میں اضافہ ہو گیا ہے ۔ سیاسی و صحافتی حلقوں کے مطابق چیئرمین سینٹ کیلئے اصل مقابلہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے درمیان ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…