پیر‬‮ ، 15 جون‬‮ 2026 

’’ایرانی بندرگاہ چاہ بہار کے بعد اومانی بندرگاہ دکم پر کنٹرول‘‘ سی پیک اور گوادر پورٹ کو ناکام بنانے کیلئے بھارت کی چال الٹی پڑ گئی پاکستان نے منہ توڑ جواب دینے کیلئے منصوبہ تیار کر لیا، حکام کی تصدیق

datetime 16  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)گوادر کے مقابلے میں ایرانی بندرگاہ چاہ بہار اور اومانی بندرگاہ دکم بھارتی فوج کے حوالے، پاکستان نے سی پیک کے خلاف بھارتی منصوبے کا توڑ نکال لیا، عنقریب پالیسی مرتب کرلی جائےگی، پاکستانی دفتر خارجہ کے سینئر افسر کی تصدیق، پاکستان کے موقر قومی اخبار کی رپورٹ میں انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے موقر قومی اخبار روزنامہ خبریں

کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سےسی پیک کو ناکام بنانے اور پاکستانی اور چینی بحری جہازوں کی نگرانی کیلئے حاصل کی گئیں ایرانی بندرگاہ چاہ بہار اور اومانی بندرگاہ دکم حاصل کی گئی ہیں اور چاہ بہار میں بھارت کے بحری بیڑے کی موجودگی اس امکان کو واضح کرتی ہے کہ ان دونوں بندرگاہوں کو بھارت کے استعمال کرنے کا مقصد نہ صرف چین کی مددسے بننے والی گوادر پورٹ کو ناکام بنانا ہے بلکہ تجارتی بحری جہازوں کے علاوہ پاکستانی اور چینی بحری بیروں پر نظر رکھنا ہے۔ پیر کے روز بھارتی وزیراعظم مودی اور اومان کے سلطان قابوس کے مابین ایک ایم او یو پر دستخط کئے گئے ہیں جس کے تحت اومان کی سمندری بندرگاہ دم پر بھارتی بحریہ کے جہازوں کو فری آف کاسٹ تیل بدلوانے اور لنگرانداز ہونے کی اجازت ہو گی جس سے بحیرہ عرب کے اس علاقے میں بھارت کا اثرورسوخ بڑھ جائیگا۔ اس کے علاوہ بھارت اس ایم او یو کے دستخط ہونے کے بعد اس کو ایک معاہدے میں بدلنے کی کوشش تیز کر دیگا جس کے تحت بھارت اومان کی اس بندرگاہ دکم کو نہ صرف ترقی دیگا بلکہ مستقبل میں اومان سے اس کا کنٹرول لینے کیلئے بات چیت بھی کرےگا اور اس معاہدے کی روشنی میں پہلے مرحلے پر بھارتی بحریہ اس پورٹ کو استعمال کریگی اور دوسرے مرحلے میں اس پورٹ کا کنٹرول حاصل کریگی۔ واضح رہے کہ بحرہ عرب میں پاکستانی بندرگاہ گوادر

سے تقریباََ 107میل دور ایران میں چاہ بہار بندرگاہ کو بھارت ڈویلپ کر رہا ہے اور اس سلسلے میں 24مئی 2016کو ایرانی صدر حسن روحانی اور بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کے مابین ہونے والی ملاقات میں اس معاہدے پر بھی دستخط ہو چکے ہیں جبکہ گوادر سے دکم کا فاصلہ 436میل ہے۔ اس خوفناک بھارتی منصوبے کا انکشاف ہوا ہے کہ ان دونوں بندرگاہوں کو بھارت نہ صرف گوادر پورٹ

کو ناکام کرنے کیلئے استعمال کریگا بلکہ گوادر پورٹ پر آنے والے تجارتی جہازوں، ان کی آمدورفت کے علاوہ پاکستانی بحریہ اور چین کے جنگی جہازوں پر اس کی کڑی نظر ہو گی۔ بھارت کے بحری ماہرین نے اس سلسلے میں اپنی حکومت کو خبردار کیا تھا جب چند ماہ قبل پاکستانی چینی مشترکہ بحری مشقیں گوادر کے ساحلوں کے قریب ہوئی تھیں۔ اسی سلسلے میں رواں ہفتے 12فروری

بروز پیر اومانی بندرگاہ دکم کا معاہدہ اور اس سے قبل ایران میں چاہ بہار پورٹ کو حاصل کرنا بھارت کی پاکستان دشمنی ، گوادر پورٹ کو ناکام کرنے اور بحیرہ عرب کے اس حصے میں بھارتی بحریہ کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی ایک سازش کا واضح ثبوت

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نصیب کی مکھی


ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…