جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

وزارت ہاؤسنگ کے افسران نے کروڑوں روپے کے42پلاٹ اپنے نام الاٹ کرالئے اورپھراربوں روپے میں یہ پلاٹ بیچ دئیے،دستاویزات میں چونکادینے والے انکشافات

datetime 24  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(آن لائن) ڈائریکٹر جنرل نیب راولپنڈی تین سالوں سے وزارت ہاؤسنگ کے کروڑوں روپے کرپشن سکینڈل کی تحقیقات مکمل نہ کرسکا ہے، مقدمہ کی تفصیلات کے مطابق وزارت ہاؤسنگ کے ذیلی ادارہ فیڈرل ایمپلائز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کی کرپٹ، بیورو کریسی نے اسلام آباد ہاؤسنگ سکیم فیز5 میں اضافی42پلاٹ بنا کر افسران کو الاٹ کردئیے تھے جس سے قومی خزانہ کو37 ملین سے زائد کا ہوا،الاٹ منٹ سے قبل متعلقہ حکام نے

سی ڈی اے سے نہ اجازت لی اور نہ ہی نئے بنائے گئے پلاٹوں کا نقشہ منظور کرایا۔ دستاویزات کے مطابق کیٹیگری ون میں13  پلاٹ، کیٹیگری2 میں2 پلاٹ، کیٹیگری تھری میں9 پلاٹ، کیٹیگری فور میں  8پلاٹ جبکہ کیٹیگری فائیو میں1 پلاٹ بنا کر افسران نے خود اپنے نام کرالئے تھے،یہ پلاٹ زرداری حکومت کے آخری دنوں میں الاٹ کئے گئے تھے،تاہم نوازشریف حکومت نے اس بھاری کرپشن کا نوٹس لے کر تحقیقات کی ذمہ داری نیب کو دے دی،یہ تحقیقات اکتوبر2015ء کو نیب کے حوالے کی گئی تھیں اب3سال گزرنے کے باوجود نیب حکام تحقیقات مکمل نہ کرسکا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ افسران نے کوڑیوں کے بھاؤ یہ پلاٹ حاصل کرکے اربوں روپے میں فروخت کردئیے ہیں اور ریٹائرڈ بھی ہوگئے ہیں،اس حوالے سے وزارت ہاؤسنگ کے سیکرٹری بابر بھروانہ بھی خاموش ہوگئے ہیں جبکہ ترجمان وزارت وضاحت دینے پر راضی نہیں ڈائریکٹر جنرل نیب راولپنڈی تین سالوں سے وزارت ہاؤسنگ کے کروڑوں روپے کرپشن سکینڈل کی تحقیقات مکمل نہ کرسکا ہے، مقدمہ کی تفصیلات کے مطابق وزارت ہاؤسنگ کے ذیلی ادارہ فیڈرل ایمپلائز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کی کرپٹ، بیورو کریسی نے اسلام آباد ہاؤسنگ سکیم فیز5 میں اضافی42پلاٹ بنا کر افسران کو الاٹ کردئیے تھے جس سے قومی خزانہ کو37 ملین سے زائد کا ہوا، متعلقہ حکام نے سی ڈی اے سے نہ اجازت لی اور نہ ہی نئے بنائے گئے پلاٹوں کا نقشہ منظور کرایا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…