منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

امریکی دھمکیاں افغانستان میں ناکامی کا مظہر ہیں،امریکا ہمیں دھمکی نہ دے بلکہ ہم سے یہ کام سیکھے ،پاکستان نے مشورہ دیدیا

datetime 23  دسمبر‬‮  2017 |

اسلا آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے امریکی بیانات اور الزامات پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ امریکا ہمیں دھمکی نہ دے، ہمارے تجربے سے دیکھے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان

سے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ کیا تھا جبکہ امریکی نائب صدر نے بھی افغانستان کے دورے میں پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا تھا کہ دہشت گردوں کو پناہ دینے پر پاکستان کو بہت کچھ کھونا پڑے گا۔ امریکی بیانات پر گزشتہ روز ترجمان دفتر خارجہ نے بیان جاری کیا تھا جس میں شدید رد عمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ اتحادی ممالک ایک دوسرے کو نوٹس پر نہیں رکھتے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹ میں خواجہ آصف نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کا بیان اقوام متحدہ میں سفارتی اور افغانستان جنگ میں ناکامی کا مظہر ہے۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ ہمیں الزام یا دھمکی نہ دیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے تجربے سے سیکھیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان، یمن اور ترکی نے مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق امریکی فیصلے کے خلاف قرار داد پیش کی جو منظور کرلی گئی اور اس حوالے سے امریکا کو عالمی طور پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ امریکا ہمیں دھمکی نہ دے، ہمارے تجربے سے دیکھے ۔



کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…