جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

شاہ زیب قتل کیس، شاہ رخ جتوئی اوردیگرملزمان کی ضمانتیں منظورکیوں ہوئیں؟مقتول کے والد نے عدالت میں کیا بیان دیا؟ حیرت انگیزانکشافات

datetime 23  دسمبر‬‮  2017 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) سیشن جنوبی نے شاہ زیب قتل کیس کے ملزم شاہ رخ جتوئی سمیت دیگر ملزمان کی ضمانتیں منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دیدیا ہے۔سیشن جج جنوبی نے ملزمان کی درخواست ضمانت پر فیصلہ سنادیا۔ ہفتہ کوکراچی ضلع جنوبی کی سیشن عدالت نے شاہ زیب قتل کیس میں ملزم شاہ رخ جتوئی سمیت دیگر ملزمان کی 5 لاکھ فی کس مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرلی۔

عدالت نے شاہ زیب قتل کیس میں شاہ رخ جتوئی سمیت دیگر ملزمان کا رہائی کا حکم دے دیاہے۔ شاہ رخ جتوئی کی غیر قانونی اسلحے کے کیس میں ضمانت منظور کرلی گئی۔ اس سے قبل سیشن عدالت میں شاہ زیب قتل کیس کی سماعت کے آغاز پر مقتول کے والد نے ملزمان کے اہل خانہ سے صلح کے حوالے سے حلف نامہ جمع کرایا۔مقتول کے والد نے عدالت کو بتایا کہ بیٹے کے قتل کے بعد ملزمان کے اہل خانہ سے صلح ہوگئی اور گھروالوں کی مرضی سے ملزمان کے اہل خانہ سے صلح کی۔انہوں نے کہا کہ شاہ زیب کے قاتلوں کو اللہ کی رضا کے لیے معاف کیا جبکہ ملزمان کی ضمانت پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ صلح نامے سے متعلق اخبارمیں اشتہاربھی دیا جائے گا۔ سیشن جنوبی نے شاہ زیب قتل کیس کے ملزم شاہ رخ جتوئی سمیت دیگر ملزمان کی ضمانتیں منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دیدیا ہے۔سیشن جج جنوبی نے ملزمان کی درخواست ضمانت پر فیصلہ سنادیا۔ ہفتہ کوکراچی ضلع جنوبی کی سیشن عدالت نے شاہ زیب قتل کیس میں ملزم شاہ رخ جتوئی سمیت دیگر ملزمان کی 5 لاکھ فی کس مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرلی۔عدالت نے شاہ زیب قتل کیس میں شاہ رخ جتوئی سمیت دیگر ملزمان کا رہائی کا حکم دے دیاہے۔ شاہ رخ جتوئی کی غیر قانونی اسلحے کے کیس میں ضمانت منظور کرلی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…