منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

بیرون ملک میں کتنے پاکستانی قید ہیں؟ تعداد جان کر آپ حیران رہ جائیں گے

datetime 21  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آبا د(مانیٹرنگ ڈیسک) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اوور سیز پاکستانیز میں بیرون ملک دس ہزار پاکستانیوں کے قید میں ہونے کا انکشاف کیا گیا ہے۔سینیٹر رحمان ملک نے کہا ہے کہ اگر کسی غریب مزدور کے پاس وکیل کرنے کے پیسے نہیں تو کیا ان کے لئے کوئی ویلفیئر سکیم بنائی گئی ہے ؟ اگر بیرون ملک پاکستانیوں کو ویلفیئر نہیں کر سکتے تو او پی ایف کا کوئی فائدہ نہیں ہے ، ان کے لئے ویلفیئر سکیم ہونی چاہیئے اور ان کو وکیلوں کی سہولت میسر کی جانی چاہیئے،

کمیٹی نے حطار میں ورکر ویلفیئر بورڈ خیبر پختونخوا کے فلیٹس پر قبضوں کے معاملے پر چار ہفتوں میں رپورٹ طلب کر لی جبکہ انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ کا ترمیمی بل 2017 بھی منظور کر لیا ، ترمیم کے بعد اگر کوئی آدمی کسی بھی اسٹیبلشمنٹ میں مستقل قسم کا کام تین مہینے کے اندر مکمل کر لے وہ ورک مین کی تعریف کے اندر آجائے گا۔جمعرات کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اوور سیز پاکستانیز کا اجلاس سینیٹر باز محمد خان کی صدارت میں ہوا ۔ اجلاس میں سعودی عرب کی جیل میں قید پاکستانی شہری کے مسئلے پر غور کیا گیا ۔ سپیشل سیکرٹری خارجہ شاہ جمال نے کمیٹی کو بتایا کہ اسلام نواز نامی شہری نے کار چلاتے ہوئے کسی کو ٹکر ماری تھی ۔ اس طرح کے کیسز کی جو فہرست وزیر اعظم کے پاس گئی ہے اس میں اسلام نواز کا نام بھی شامل ہے ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا 3لاکھ بہت بڑی رقم ہے شائد وہ ادا نہ کر سکے پانچ سال سے وہ جیل ہے اگر پیسے نہیں دے گا تو ساری عمر جیل میں رہے گا۔ سپیشل سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ ہم نے ایک پالیسی بنائی ہے جس کی مختلف سطح پر منظوری ہو چکی ہے ۔ اس کے بعد ہمارے پاس اس حوالے سے مناسب پالیسی ہو گی۔ اس وقت دس ہزار پاکستانی بیرون ملک جیلوں میں ہیں جن میں سے 3ہزار سعودی عرب کی جیلوں میں ہیں ۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ اگر کسی غریب مزدور کے پاس وکیل کرنے کے پیسے نہیں تو کیا ان کے لئے کوئی ویلفیئر سکیم بنائی گئی ہے

اگر بیرون ملک پاکستانیوں کو ویلفیئر نہیں کر سکتے تو او پی ایف کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ ان کے لئے ویلفیئر سکیم ہونی چاہیئے اور ان کو وکیلوں کی سہولت میسر کی جانی چاہیئے، وکیلوں کا پینل ہونا چاہئے اس موقع پر سیکرٹری اوور سیز پاکستانیز نے کمیٹی کو بتایا کہ بیرون ملک پاکستانی کے لئے وفات یا معذوری کی صورت میں سٹیٹ لائف کی دس لاکھ کی انشورنس ہوتی ہے جبکہ اسکے علاوہ او پی ایف بھی 4لاکھ روپے دیتا ہے ۔ہم انہیں اکیلا نہیں چھوڑتے ۔ اس موقع پر اجلاس میں سینیٹر میاں عتیق شیخ کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر بھی بحث کی گئی ۔

میاں عتیق شیخ نے کہا کہ میرا سوال تھا کہ ورکر ویلفیئر بورڈ میں کالونیاں بن جاتی ہیں لیکن پھر لوگ ان پر قابض ہو جاتے ہیں ، اور پھر وہ قابضین ان فلیٹس کو آگے کرائے پر بھی دے دیتے ہیں ۔ اس موقع پر سیکر ٹری اوورسیز پاکستانیز نے کہا کہ یہ حطار کے حوالے سے ہے اس کو خیبر پختونخوا ہی چلاتا ہے کچھ فلیٹس ایسے تھے جن کو دوبارہ کرائے پر دیا گیا تھا ۔اس موقع پر سیکرٹری ورکر ویلفیئر بورڈ خیبر پختونخوا کے سیکرٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ حطار میں 1180کوارٹر ہیں ۔ اس حوالے سے انکوائری کمیٹی اپنی تحقیقات کر رہی ہے کمیٹی کاایک رکن عمرے پر گیا ہو ا ہے۔

اگلے ہفتے تک اس کی رپورٹ آجائے گی ۔ سینیٹر میاں عتیق شیخ نے کہا کہ یہ فلیٹس فیکٹری کے نام پر الاٹ ہو تے ہیں ۔ خیبر پختونخوا کا پورا ڈیپارٹمنٹ ملا ہو ا ہے آج وہاں قابضین ڈیپارٹمنٹ سے مل کر بیٹھ گئے ہیں ۔ کمیٹی نے اس مسئلے پر ورکر ویلفیئر بورڈ خیبر پختونخوا سے چار ہفتوں میں رپورٹ طلب کر لی ۔ اجلاس میں سینیٹر اعظم خان سواتی کی جانب سے پیش کئے گئے انڈسٹریل ریلیشنز کے ترمیمی بل 2017پر بھی بحث کی گئی اور بحث کے بعد اسے منظور کر لیا گیا۔ ترمیم میں ورکر کی تعریف واضح کی گئی ہے ۔اس ترمیم کے بعد اگر کوئی آدمی کسی بھی اسٹیبلشمنٹ میں مستقل قسم کا کام تین مہینے کے اندر مکمل کر لے وہ ورک مین کی تعریف کے اندر آجائے گا ۔



کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…