منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

کوئی افلاطون یا آئن اسٹائن سوچ رہا ہے کہ مجھ پر لاک لگایا جائے

datetime 21  دسمبر‬‮  2017 |

کراچی(اے این این ) پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال کا کہنا ہے کہ کوئی افلاطون یا آئن اسٹائن سوچ رہا ہے کہ مجھ پر لاک لگایا جائے۔پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال سے نیب نے پتھاروں کی غیر قانونی فروخت کے کیس سے متعلق دستاویزات طلب کی تھیں

جسے جمع کرانے کے لیے مصطفی کمال کراچی میں نیب کے دفتر پہنچے جہاں انہیں اندر آنے کی اجازت نہ ملی۔مصطفی کمال،وسیم آفتاب اور ڈاکٹر صغیر کچھ دیر نیب کے دفتر کے باہر کھڑے رہے تاہم تھوڑی دیر میں انہیں اندر آنے کی اجازت مل گئی۔نیب میں دستاویزات جمع کرانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفی کمال نے کہا کہ میں سیاست میں نا آتاتو یہ کیس نہ بنتا، میری سیاسی جدوجہد کے بغیر کیس بنایا گیا، میری پارٹی مشہور نہ ہوتی تو نیب کا یہ لیٹر نہ ملتا۔انہوں نے کہا کہا کہ مجھ پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں لگا، اپنے ہاتھوں سے 300 ارب روپے خرچ کیے، اس شہر میں میرا یا اہل خانہ کا شادی ہال یا زمین نہیں، میری نظامت کے زمانے کا مسئلہ ہے جو کچھ بھی نہیں ہے۔چیرمین پی ایس پی کا کہنا تھا کہ اپنے بچوں کو روتا چھوڑ کر مشن لے کر وطن آیا، کوئی افلاطون یا آئن اسٹائن سوچ رہا ہے کہ مجھ پر لاک لگایا جائے لیکن مجھے اس طرح ڈیل نہیں کرسکتے۔مصطفی کمال نے کہا کہا کہ کیا را کے ایجنٹ کا کردار ختم کرنے کی سزا دی جارہی ہے، ہم نے بانی ایم کیو ایم کو چھوڑ دیا لیکن آپ معاف کرنے کو تیار نہیں۔



کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…