منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

خانپور میں بارات پر ڈالر ، ریال اور موبائل فون کی بارش کرنے والے کون تھے؟کس چیز کا کاروبارکرتے ہیں،تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 21  دسمبر‬‮  2017 |

خانپور(مانیٹرنگ ڈیسک) خانپور میں برات پر ڈالر ، ریال اور موبائل فون کی بارش کرنے والے پرچون فروش نکلے جو نئی و پرانی بوریاں سینے اور بیچنے کا کاروبار کرتے ہیں،ایف بی آر نے واقعے کا نوٹس لے کر تحقیقات شروع کردیں۔تفصیلات کے مطابق خانپور میں بارات

میں ڈالر ، موبائل فون اور ریال لٹانے والے پرچون فروش نکلے اور نئی و پرانی بوریاں سینے اور بیچنے کا کاروبار کرتے ہیں۔ دریا دلی کرنے والے ارشد قریشی کا تعلق قریشی خاندان سے ہے، دولہا کے چچا کا کہنا ہے کہ براتیوں پر پیسہ لٹانا قریشوں کی روایت ہے جب کہ دولہا کے بھائی کا کہنا ہے کہ وہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ بارات میں ایک ڈالر کے پانچ سو نوٹ اور ایک ریال کے بھی پانچ سو نوٹ پھینکے گئے، جبکہ دو ہزار والے ڈبہ پیک موبائل فون بھی لٹائے گئے۔دوسری جانب فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے رحیم یار خان میں شادی کی تقریب کے دوران باراتیوں کی جانب سے ڈالر ‘ ریال اڑائے جانے کا نوٹس لیتے ہوئے دولہے اور دلہن کے اہل خانہ کے مالی وسائل سے متعلق تحقیقات شروع کر دیں۔ ایف بی آر ذرائع کے مطابق باراتیوں کے امریکی ڈالرز، سعودی ریال اور موبائل فونز لْٹانے پر نوٹس لیا گیا۔ ایف بی آر نے دلہا اور دلہن کے مالی وسائل سے متعلق تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ایف بی آر ذرائع نے بتایا کہ دلہا دلہن اور ان کے اہل خانہ کے مالی وسائل کا جائزہ لے کر اس سے متعلق تحقیقات کی جائیں گی۔



کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…