جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

شہید زندہ ہوتا ہے اس لیے ریٹائرمنٹ تک تنخواہیں دیتے رہیں، پشاور ہائی کورٹ میں درخواست

datetime 20  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پشاور ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں موقف اختیار کیاگیاہے کہ شہید زندہ ہوتا ہے اس لیے ان کی تنخواہیں ریٹائرمنٹ کی عمر تک جاری رکھی جائیں، تفصیلات کے مطابق بی بی سی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ میں بدھ کو ایک درخواست کی سماعت ہوئی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ چونکہ شہید زندہ ہوتا ہے، اس لیے ان کی شہادت کے بعد بھی حکومت ان کی

تنخواہیں اور دیگر مراعات ریٹائرمنٹ کی عمر تک جاری رکھی جائیں اور اس میں کسی قسم کا امتیاز نہ برتا جائے۔ یہ درخواست ایک مقامی وکیل محمد خورشید خان ایڈووکیٹ کی جانب سے عدالت کو دی گئی، اس درخواست کی سماعت جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس مسرت ہلالی کی عدالت میں ہوئی، اس موقع پر عدالت نے انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا اور صوبائی سیکرٹری فنانس کو نوٹس جاری کیے ہیں کہ وہ پندرہ دن کے اندر اس کا جواب دیں۔ درخواست دائر کرنے والے وکیل نے نشریاتی ادارے کو بتایا کہ انہوں نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ شہید کا رتبہ اعلیٰ ہے اور پولیس کے شہدا پیکج میں تفریق برتی جا رہی ہے اس لیے عدالت میں یہ بتایا جائے کہ پولیس اہلکاروں کو شہدا کے کیا پیکجز دیے جا رہے ہیں اور دوسرا یہ کہ اس میں امتیاز نہ برتا جائے۔انہوں نے اس موقع پر بتایا کہ شہید ہونے والے بعض سپاہی رینک کے پولیس اہلکاروں کے خاندان انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں اور کچھ بیوائیں مسلسل دفاتر کے چکر لگاتی رہتی ہیں تاکہ انھیں ان کی رقوم کی ادائیگی ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ میں نے درخواست میں حکومت سے استدعا کی ہے کہ حکومت ہر ضلع کی سطح پر ایک ایسا افسر مقرر کرے جو ان پولیس اہلکاروں کے خاندان والوں کو ان کے پیکجز اور رقوم باقاعدگی سے ان کے گھروں میں پہنچانے کا کام کریں تاکہ متاثرہ خاندان کی مشکلات میں کمی واقع ہو سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…