جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

نوازشریف کی جگہ وزیراعظم بننے سے انکار کیوں کیا؟ شہبازشریف بالاخر سب سامنے لے آئے

datetime 20  دسمبر‬‮  2017 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں انٹرنیشنل فوڈ سیفٹی اینڈ نیوٹریشن سیمینار میں شرکت کی اور معیاری اشیا خورد و نوش کی فراہمی کے حوالے سے کلیدی خطاب کیا۔ سیمینار میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارکردگی کے حوالے سے دستاویزی فلم دکھائی گئی اور خصوصی خاکہ پیش کیا گیا جسے حاضرین نے بے حد پسند کیا۔

وزیر اعلی نے اپنے خطاب میں عوام کو بلا امتیاز معیاری اشیا خورد و نوش کی فراہمی کے حوالے سے اپنے خطاب کے دوران علامہ اقبال کا یہ شعر پڑھا!ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود ایا ز ۔۔۔نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز ۔وزیر اعلی نے عوام کو معیاری اشیا کی فراہمی کے حوالے سے پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی ایک مایہ ناز ادارہ ہے اور میں اس کی شاندار کارکردگی پر پوری ٹیم کو سیلوٹ کرتا ہوں۔ وزیر اعلی نے اپنے خطاب کے دوران اورنج لائن میٹروٹرین کے منصوبے میں ہونے والی 22ماہ کی تاخیر پر تحریک انصاف اور عمران نیازی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پی ٹی آئی نے اس منصوبے کی مخالفت کر کے غریب عوام کے ارمانوں کا خون کیا ہے ۔ وزیر اعلی نے اپنی تقریر کا اختتام ان اشعار پر کیا!تمنا آبروکی ہے اگر گلزار ہستی میں،تو کانٹوں میں الجھ کر زندگی کرنے کی خو کر لے ۔نہیں یہ شان خودداری چمن سے توڑ کر تجھ کو،کوئی دستار میں رکھ لے کوئی زیب گلو کر لے۔وزیر اعلی نے اپنے تقریر میں محمد نواز شریف کے خلاف عدالتی فیصلہ کے بعد ملک کا وزیر اعظم بننے کی پیشکش کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے پارٹی قیادت سے درخواست کی کہ مجھے پنجاب میں رہنے دیں تا کہ میں پنجاب کی عوام سے فلاحی منصوبوں کی تکمیل کے وعدے کو پورا کر سکوں۔اگر میں پنجاب چھوڑ کر اسلام آباد چلا جاتا تو مفاد عامہ کے منصوبے ادھورے رہ جاتے۔ مجھے وزارت عظمی سے زیادہ عوام کی محبت، ترقی اور خوشحالی عزیز ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…