منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

سی پیک منصوبوں سے دستبرداری چین نے سب کو ہکا بکا کر دیا

datetime 17  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) اس امر کا اعادہ کیا گیا ہے کہ پاکستان کو سی پیک سے متعلقہ منصوبوں پر عملدرآمد کیلئے چینی حکومت کی طرف سے دیئے جانیوالے رعایتی قرضوں پر صرف ایک یا دو فیصد سود ادا کرنا ہے۔ اسلام آباد میں چین کے سفارتخانے کے ترجمان نے شرح سود سے متعلق میڈیا اطلاعات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چینی کمپنی کی طرف سے کی جانیوالی سرمایہ کاری کی صورت

میں چینی حکومت کے قرضے کے مقابلے میں سود کی شرح پانچ فیصد یا اس سے کم ہے اور یہ سود بھی چینی بینکوں کو خود کمپنیوں کی طرف سے ادا کرنا ہے ۔ترجمان نے کہا کہ رعایتی قرضے زیادہ تر بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر خرچ کئے جاتے ہیں ، یہ قرضے توانائی سے متعلق منصوبوں کیلئے بھی استعمال کئے جاتے ہیں ۔ترجمان نے کہا کہ قرضوں اور سرمایہ کاری کے ذریعے چین پاکستانی معیشت کی حمایت کررہا ہے اور عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں مدد دے رہا ہے ۔ سی پیک ایک فلیگ شپ سماجی اقتصادی ترقیاتی منصوبہ ہے جس کا مقصد باہمی صلاح مشورے کے ذریعے وسیع پیمانے پر ملک کے تمام حصوں کی تمام مشمولہ ملک کے تمام حصوں کی خدمت کرنا ہے، سی پیک سے متعلق تین منصوبوں کے فنڈز کی روکنے کے بارے میں میڈیا اطلاعات پر تبصرہ کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ اس قسم کی اطلاعات درست نہیں ہیں ، فنڈز روکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، درحقیقت تین متذکرہ منصوبوں کے معاملے میں مالیاتی طریقہ کار یا رقوم کی فراہمی کے طریقہ کا جائزہ لیا جارہا ہے، ایسا دونوں حکومتوں کے باہمی صلاح مشورے کے ذریعے کیا جارہا ہے، نظرثانی کا مطلب کسی مخصوص منصوبے کے لئے فنڈنگ روکنا یا تبدیلی ہرگز نہیں ہے ، مالیاتی انتظامات پر نظرثانی طرفین کے معاملات کی مجموعی بہتری کیلئے کی جاتی ہے۔ترجمان نے

کہا کہ بسا اوقات فنی بنیادوں پر کسی مخصوص معاملے میں مالیاتی ردوبدل کی ضرورت پیش آتی ہے اور ایسا کرتے ہوئے مخصوص علاقے یا عوام کے مفاد کو مد نظر رکھا جاتا ہے ، مفاہمت کے مطابق دونوں حکومتیں ضرورت پڑنے پر فنڈنگ کے طریقہ کا فیصلہ یا نظر ثانی کرتی ہیں، کسی منصوبے کے معاملے میں کسی مالیاتی مینجمنٹ پر نظرثانی کو منفی طریقہ پر نہیں لیا جانا چاہئے،

ہر منصوبہ دونوں حکومتوں کیلئے اہم ہے اور مالیاتی انتظامات اس کے مطابق کئے جاتے ہیں۔ترجمان نے مزید کہا کہ سی پیک کے بارے میں غلط فہمی یا غلط سوچ پیدا کرنے سے گریز کیا جانا چاہئے کیونکہ یہ بیلٹ و رو ڈ منصوبے کا اہم پائلٹ حصہ ہے اور دونوں حکومتوں کی قیادت اس کو انتہائی اہمیت دیتی ہے، سی پیک کی اہمیت دونوں ممالک کے عوام کیلئے بورڈ سے بالا تر ہے ،

منصوبوں سے جلد استفادے پر عملدرآمد کا پہلا مرحلہ جلد ہی مکمل کر لیا جائے گا ، اس کے فوائد جلد ہی ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گے اور ملک کی توانائی کی قلت پر قابو پا لیا جائے گا ، دونوں حکومتوں نے 2030ء تک طویل المیعاد سی پیک منصوبے کو بھی حتمی شکل دیدی ہے ، توقع ہے کہ اس کا اعلان پیر کو کیا جائے گا ۔دریں اثنا پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے بھی

ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ بیجنگ نے پاکستان میں چین ۔پاکستان اقتصادی راہداری منصوبوں میں سے بعض کی ادائیگی روک دی ہے۔ایک حالیہ پریس بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ چین سے ایسی کوئی خبرنہیں ہے کہ چین کی حکومت نے کسی منصوبے کی فنڈنگ روکدی ہے ۔ترجمان نے مزید کہا کہ ادائیگیوں پر عمل مخصوص طریقے سے کیا جاتا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…