ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

پاکستان کا موجودہ عدالتی نظام کیسا ہے،قائد اعظم یونیورسٹی کی تحقیق میں تشویشناک انکشافات

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(آن لائن )قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس کی ریسرچ ٹیم نے ضلع اسلام آباد کی عدالتوں میں آنے والے سائلین کے مقدمات کے اعداد و شمار سے نتائج اخذ کئے ہیں کہ موجودہ عدالتی نظام عام شہری کو سستے انصاف کی فراہمی میں مددگار نہیں ہے ریسرچ کے نتائج کے مطابق مقدمات کی اوسط لاگت /اخراجات سائلین کی اوسط آمدنی سے بہت زیادہ ہے جو کہ موجودہ عدالتی نظام اور اس کے ڈھانچے پر سوالیہ نشان ہے ۔ریسرچ ٹم کے

سربراہ ڈاکٹر انور شاہ کے مطابق حالیہ نظام عدلیہ کی بنیاد سرمایہ داری نظام سے مربوط ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام فرد کی آزادی کی اہمیت سمجھے بغیر لوگوں کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے ٗ نتیجتاًمعاشرہ عدم مساوات کا شکار ہے کہ کچھ لوگ زندگی کی تمام سہولیات تک رسائی حاصل کرتے ہیں جبکہ دیگر لوگ ان سہولیات سے محروم رہتے ہیں اس عدم مساوات کے اثرات ریاست کے دیگر بنیادی اداروں کی سطح مثلاً عدلیہٗ انتظامیہ اورمقننہ تک موجود ہے۔ ڈاکٹر انور شاہ کے اس تحقیقی کام کا مقصد پاکستان کے نظام عدل میں انصاف تک رسائی حاصل کرنے میں عدم مساوات کے پہلو پر روشنی ڈالناہے۔ جہاں یہ نظام عدل کئی لوگوں کی مدد کا سبب ہے وہیں دوسری جانب متعد د انصاف سے محروم ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ متذکرہ نظام ماضی کی کئی حکومتوں سے متاثر ہے جیسا کہ برطانوی نو آبادیاتی دور کے اثرات انتظامی و عدالتی نظام ہائے پر واضح ہیں ۔ یہ تحقیق اس بات پر منتج ہے کہ اس طرح کا عدالتی نظام ثمر آور نہیں ہوسکتا جب تک موجودہ معاشی نظام کو زمینی حقائق سے مربوط نہیں کیا جاتا اور ایسے معاشرے کی تشکیل کی کوشش نہیں کی جاتی جس میں انصا ف کے حصول کے لئے اخراجات کا بوجھ فرد اور سائلین کی بجائے معاشرہ خود برداشت کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…