پاکستان کا موجودہ عدالتی نظام کیسا ہے،قائد اعظم یونیورسٹی کی تحقیق میں تشویشناک انکشافات

  ہفتہ‬‮ 25 ‬‮نومبر‬‮ 2017  |  16:14

اسلام آباد(آن لائن )قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس کی ریسرچ ٹیم نے ضلع اسلام آباد کی عدالتوں میں آنے والے سائلین کے مقدمات کے اعداد و شمار سے نتائج اخذ کئے ہیں کہ موجودہ عدالتی نظام عام شہری کو سستے انصاف کی فراہمی میں مددگار نہیں ہے ریسرچ کے نتائج کے مطابق مقدمات کی اوسط لاگت /اخراجات سائلین کی اوسط آمدنی سے بہت زیادہ ہے جو کہ موجودہ عدالتی نظام اور اس کے ڈھانچے پر سوالیہ نشان ہے ۔ریسرچ ٹم کے سربراہ ڈاکٹر انور شاہ کے مطابق حالیہ نظام عدلیہ کی بنیاد سرمایہ داری نظام سے مربوط ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ


نظام فرد کی آزادی کی اہمیت سمجھے بغیر لوگوں کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے ٗ نتیجتاًمعاشرہ عدم مساوات کا شکار ہے کہ کچھ لوگ زندگی کی تمام سہولیات تک رسائی حاصل کرتے ہیں جبکہ دیگر لوگ ان سہولیات سے محروم رہتے ہیں اس عدم مساوات کے اثرات ریاست کے دیگر بنیادی اداروں کی سطح مثلاً عدلیہٗ انتظامیہ اورمقننہ تک موجود ہے۔ ڈاکٹر انور شاہ کے اس تحقیقی کام کا مقصد پاکستان کے نظام عدل میں انصاف تک رسائی حاصل کرنے میں عدم مساوات کے پہلو پر روشنی ڈالناہے۔ جہاں یہ نظام عدل کئی لوگوں کی مدد کا سبب ہے وہیں دوسری جانب متعد د انصاف سے محروم ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ متذکرہ نظام ماضی کی کئی حکومتوں سے متاثر ہے جیسا کہ برطانوی نو آبادیاتی دور کے اثرات انتظامی و عدالتی نظام ہائے پر واضح ہیں ۔ یہ تحقیق اس بات پر منتج ہے کہ اس طرح کا عدالتی نظام ثمر آور نہیں ہوسکتا جب تک موجودہ معاشی نظام کو زمینی حقائق سے مربوط نہیں کیا جاتا اور ایسے معاشرے کی تشکیل کی کوشش نہیں کی جاتی جس میں انصا ف کے حصول کے لئے اخراجات کا بوجھ فرد اور سائلین کی بجائے معاشرہ خود برداشت کرے۔


موضوعات: