بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

’’ قادیانیوں کو مسلمان قرار دینے کا بیان‘‘ پاکستان کے جید علمائے کرام نے صوبائی وزیر قانون کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیدیا، تحریک چلانے کا اعلان

datetime 12  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) صوبائی وزیر قانون رانا ثنا کی جانب سے قادیانیوں کو مسلمان قرار دینے کے خلاف علمائے کرام میدان میں آگئے ہیں اور انہوں نے رانا ثنا کی صوبائی وزیر قانون کی حیثیت سے فوری طور پر برطرفی کا مطالبہ کرتے ہوئے انہیں دائرہ اسلام سے خارج قرار دیدیا ہے ، مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں تحریک چلانے کا اعلان۔ تفصیلات کے مطابق

صوبائی وزیر قانون کی جانب سے قادیانیوں کو مسلمان قرار دینے کے بیان کے خلاف علمائے کرام نے رانا ثنا کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیدیا ہے اور ان کی فوری طور پر برطرفی کا مطالبہ کیا ۔ جامعہ نعیمیہ کے مہتمم ڈاکٹرراغب حسین نعیمی نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت ﷺ ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ ہم عقیدہ ختم نبوت ﷺ سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ صوبائی وزیر قانون کے بیانات قابل مذمت ہیں۔ انہوں نے جو بھی کہا ہے غلط کہا ہے۔ کیونکہ یہ معمولی فرق نہیں ہے۔ عقیدہ ختم نبوت ﷺ قرآن کی بنیاد پر قائم ہے۔ یہ ایک اہم فرق ہے۔اگر معمولی فرق ہوتا تو آئین میں قادیانیوں کی غیر مسلم قرار نہ دیا جاتا۔ اب ضروری ہے کہ رانا ثنا اللہ عقیدہ ختم نبوت ﷺ کا اقرار کریں اور کلمہ طیبہ پڑھیں۔سنی اتحاد کونسل کے سربراہ حامد رضا کا کہنا ہے کہ رانا ثنا اللہ کے اس بیان سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قادیانیوں کی حمایت میں بیان دے کر رانا ثنا اللہ نے آئین پاکستان پر حملہ کیا ہے۔رانا ثنا اللہ خان کو فی الفور عہدے سے ہٹا کر ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔تحریک تحفظ حرمین شریفین کے سربراہ علامہ زبیر احمد ظہیر نے انتہائی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ رانا ثنا نے حکومتی آشیرباد سے بیان دیا۔ انہوں نے بھی صوبائی وزیرقانون کی برطرفی کا مطالبہ کیا ہے اور مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…