جمعرات‬‮ ، 22 جنوری‬‮ 2026 

شیخ رشید رشید نے اربوں روپے کیسے بنائے؟کوٹھیاں اور محلات بطور تحفہ کس نے دیئے؟بات سپریم کورٹ تک پہنچ گئی

datetime 11  اکتوبر‬‮  2017 |

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ (ن )کے ممتاز راہنما سابق رکن قومی اسمبلی ملک شکیل اعوان نے کہا ہے کہ دوسروں پر بے بنیاد الزامات لگاکر اور ’’ طوطا فال ‘‘ کے ذریعے سال بھر مختلف تاریخیں دے کر جھوٹی شہرت پانے میں ماہر شیخ رشید میں اگر ’’ رتی برابر ‘‘ بھی سچائی یا دیانتداری ہوتی تو گزشتہ تین سال سے سپریم کورٹ میں دائر میرے مقدمہ کا سامنا کرتے جس میں میں نے ثابت کیا ہے کہ شیخ رشید نے

پرویز مشرف دور حکومت میں وفاقی وزیر اور پرویز مشرف کا ترجمان رہ کر اربوں روپے کی جائیدادیں بنائی اور بڑے بڑے کاروباری لوگوں سے ’ بھتہ‘ کی صورت میں کوٹھیاں اور محلات بطور تحفہ وصول کرتا رہا ہے ۔ میڈیا کے سامنے اپنے آپ کو بہترین وکیل ظاہر کرنے اور سپریم کورٹ کے ججوں سے داد وصول کرنے کا دعویدار میرے دائر مقدمہ میں نہ صرف بہت سے وکیل تبدیل کر چکا ہے بلکہ جب سپریم کورٹ میں تاریخ نکلتی ہے وکیل نہ ہونے اور کسی فوتگی یا بیماری کا بہانہ تراش کر مجھ سے منہ چھپاتا ہے ۔ میری چیف جسٹس سپریم کورٹ سے اپیل ہے کہ 1985ء کی اسمبلی کا رکن بننے سے پہلے ایک سائیکل سوار شیخ رشید آج اربوں روپے کی جائیدادوں اور بینک بیلنس کے مالک بنے والے شخص کیخلاف میرے دائر مقدمہ کی فوری سما عت کا حکم دیں تاکہ قوم چور اور چوکیدار میں فرق محسوس کر سکے ۔انہوں نے کہا کہ  ’’ طوطا فال ‘‘ کے ذریعے سال بھر مختلف تاریخیں دے کر جھوٹی شہرت پانے میں ماہر شیخ رشید میں اگر ’’ رتی برابر ‘‘ بھی سچائی یا دیانتداری ہوتی تو گزشتہ تین سال سے سپریم کورٹ میں دائر میرے مقدمہ کا سامنا کرتا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…