منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

’’عمران خان پارٹی فنڈنگ کیلئے جواءکھیلتے ہیں‘‘ عمران خان نے اپنے منہ سے اعتراف کر لیا؟

datetime 26  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مریم اورنگزیب کہتی ہیں کہ سپریم کورٹ میں کرپشن کے نعرے لگانے والے خود عدالتوں سے مفرور ہیں، عمران خان اداروں کو گالی دیتے، تضحیک کرتے ہیں، عدالتوں سے بھاگتے ہیں اور پھر معافی مانگتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چار سال میں اداروں کو کمزور کرنے کے علاوہ عمران خان نے اور کچھ نہیں کیا، خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت کی کرپشن چھپانے کیلئے احتساب کمیشن کو آج تک تالا لگایا ہوا

ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان پارٹی فنڈنگ کیلئے جوا کھیلتے ہیں اور کہتے ہیں جوا نہیں کھیلا، ایڈوایز دی تھی اور پیسہ کمایا، ہائے معصومیت!مریم اورنگزیب نے کہا کہ شریف خاندان نے اپنے خلاف مقدمے میں قانون کی پاسداری کی نئی تاریخی مثال قائم کی، انہوں نے عدالتی فیصلے کے خلاف آئینی اور قانونی راستہ اختیار کیا، شریف خاندان کو ہر پاکستانی شہری کی طرح تمام قانونی حقوق حاصل ہیں، پاکستان کے آئین اور قانون کو بھی شریف خاندان کے قانونی اور بنیادی حقوق کا خیال رکھنا ہو گا، منی لانڈرنگ سے شروع ہو کر اقامے پر ختم ہونے والے کیس پر پوری قوم سوال کر رہی ہے۔قبل ازیںمسلم لیگ ن کے رہنما دانیال عزیز کا بھی کہنا تھا کہا ہے کہ میاں نواز شریف نے کہیں بھی کسی چیز کا اعتراف نہیں کیا بلکہ اس کے خلاف لڑے ہیں جبکہ عمران خان نے جوا کھیلنے اور دیگر چیزوں کا اپنے منہ سے اعتراف کیا ہے ۔ عمران خان کے مختلف ٹی وی چینلز پر دیے گئے بیانات کا ریکارڈ عدالت میں جمع کرادیا ہے۔سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دانیال عزیز کا کہنا تھا کہ عمران خان نے 1997 میں این اے 11 سے الیکشن لڑا جس میں سردار مہتاب عباسی فاتح قرار پائے، اسی طرح انہوں نے 2002 سے پہلے پانچ حلقوں میں الیکشن لڑا ہے۔ پی ٹی آئی کے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ 1997 میں بین الاقوامی اثاثوں کا کالم نہیں تھا اور یہ 2002 میں شامل ہوا تھالیکن در

حقیقت یہ خانہ موجود تھا۔انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے کاغذات نامزدگی اکرم شیخ کو دے دیے ہیں جس میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ 2002 سے پہلے بھی کاغذات نامزدگی میں بیرون ملک اثاثوں کا خانہ موجود تھا۔ اکرم شیخ نے اس معاملے پر درخواست دائر کرنے کی تیاری کرلی ہے۔دانیال عزیز کا کہنا تھا کہ عمران خان نے 2000 میں ایمنسٹی کے تحت اپنا فلیٹ ڈکلیئر کیا ہے جس کامطلب ہے وہ صادق اور امین نہیں رہے۔ انہوں نے اپنی

کتاب کے صفحہ نمبر 45، 70، 72پرنے 1977 تک کے اپنے مالی حالات کا تذکرہ کیا ہے اور کہتے ہیں کہ پیسے مانگتے پھرتے تھے، عمران خان کے معاملے میں باقاعدہ ٹیکس چوری ہوا اور اثاثے چھپائے گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…