جمعرات‬‮ ، 22 جنوری‬‮ 2026 

پیک فیکٹر دراصل کیا ہے؟نجی شعبے کی کار سروس استعمال کرنے والوں کو کیسے لوٹاجارہاہے؟حیرت انگیز انکشافات

datetime 11  ستمبر‬‮  2017 |

کراچی(این این آئی)موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے ملک کے بڑے شہروں میں چلنے والی نجی شعبے کی کار سروس مسافروں کے لیے پیک فیکٹر اور ویٹنگ کے نام پر زائد بلنگ کے باعث درد سر بن گئی۔ تفصیلات کے مطابق مذکورہ نجی کار سروس کو استعمال کرنے والے شہریوں کی بڑی تعداد نے شکایت کی ہے کہ ابتدا میں بہترین سروس مہیا کرنے والی کار سروس اب پیک فیکٹراور ویٹنگ کے نام پر زائد بلنگ کر رہی ہے ۔

موصول مصدقہ اطلاعات کے مطابق واٹر پمپ کراچی سے نظام نامی ایک شہری نے لانڈھی بابر مارکیٹ کے لیے ٹیکسی سروس حاصل کی۔ منزل مقصود پر پہنچ کر ڈرائیور نے 1416 روپے طلب کیے جو عام طور پر اس فاصلے کے لیے 300فیصد زائد بنتے ہیں۔تاہم شہری نے وہ کرایہ ادا کیا اور کمپنی کو ای میل کے ذریعے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔اس ای میل کے جواب میں ٹیکسی سروس کی انتظامیہ کی جانب سے زائد کرائے کا عجیب و غریب عذر پیش کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے جاری ای میل کے مطابق شہریوں کی طلب کے مقابلے میں گاڑیاں کم ہیں اس لیے اس کیس میں پیک فیکٹر2اعشاریہ9 کا فارمولا لگایا گیا ہے جس کے مطابق 928روپے سرچارج لگایا گیا ہے۔ کرائے کے بریک اپ کے مطابق سفر شروع کرنے کی مد میں 75، کلومیٹر اصل کرایہ 236 روپے، ویٹنگ بمعہ ابتدائی کرایہ177شامل کرکے مجموعی کرایہ1416روپے بنتا ہے۔ جوابی میل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پیک فیکٹر کی نشاندہی ویب ایپلی کیشن پر موجود ہوتی ہے جو وقتا فوقتا ایک اعشاریہ ایک سے 3اعشاریہ8تک جاسکتی ہے۔ ابتدا میں بہترین سروس مہیا کرنے والی کار سروس اب پیک فیکٹراور ویٹنگ کے نام پر زائد بلنگ کر رہی ہے

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…