اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ افغانستان میں سی پیک کیخلاف کیا کررہاہے؟عسکری ماہرین کے حیرت انگیز انکشافات

datetime 24  اگست‬‮  2017 |

راولپنڈی(این این آئی)سابق فوجیوں کی تنظیم ویٹرنز آف پاکستان (سابقہ پیسا)نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیاء کے بارے میں امریکی پالیسی میں تبدیلی سے نہ تو خطے میں امن آئے گا اور نہ اس سے کوئی مثبت مقصد حاصل ہو گا۔ امریکہ اپنی شروع کردہ جنگ میں اپنی غلطیوں کی وجہ سے پھنسا ہے اور افغانستان میں اسکی ناکامی کا زمہ دار پاکستان نہیں۔پاکستان کو بھارت اور افغانستان کی جانب سے دہشت گردی کا سامنا ہے جس پر امریکہ کی خاموشی حیران کن ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں کے بیانات زمینی حقائق کے خلاف ہیں کیونکہ دنیا کے کسی بھی ملک نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان سے زیادہ قربانیاں نہیں دیں۔ ان خیالات کا اظہار سابق عسکری ماہرین نے ایک ہنگامی میٹنگ کے دوران کیا جس میں کہا گیا کہ امریکی صدر نے نہ تو ٹی ٹی پی کے سربراہ کا زکر کیا جو افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے، نہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کی مزمت کی اور نہ ہی بھارتی جاسوس کلبھوشن پر بات کی جس نے دہشت گردی میں ملوث ہونے کا اقرار کیا ہے۔ امریکہ کو پاکستان کا ایٹمی پروگرام ایک آنکھ نہیں بھاتاجبکہ بھارت کے نیوکلیئر پروگرام کی ہر طرح سے مدد کی جاتی ہے۔ہم جوہری ہتھیاروں کی حفاظت کے متعلق امریکہ کا گھسا پٹا موقف مسترد کرتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ امریکی صدر کے بیان کے جواب میں ہمارے آرمی چیف نے مناسب جواب دیا ہے ۔حکومت امریکہ کو صاف الفاظ میں بتا ئے کہ ہم اپنے اقتدار اعلیٰ، ملکی سالمیت اور آزادی پر ڈالروں کی خاطر کوئی سودے بازی نہیں کر سکتے ۔امریکہ بار بارپاکستان پر الزام لگانے کے بجائے اپنی ترجیحات بدلے اور پاک افغان سرحد پر پاکستان کی جانب سے باڑ لگانے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے جدید ترین ساز و سامان مہیا تاکہ آمد و رفت پر نظر رکھی جا سکے۔ امریکہ افغانستان میں جمہوریت کیلئے نہیں بلکہ سی پیک کو ہدف بنانے کیلئے موجود ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…